انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 337

موم جلد ۳۰ ۳۳۷ سیرت مسیح موعود سوانح نویس شیخ یعقوب علی صاحب آپ کے بارہ میں ایک عجیب واقعہ جو آپ کی نہایت بچپن کی عمر کے متعلق ہے تحریر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب آپ کی عمر نہایت چھوٹی تھی تو اس وقت آپ اپنی ہم سن لڑکی کو جس سے بعد میں آپ کی شادی بھی ہو گئی کہا کرتے تھے کہ "نا مرا دے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے۔" اس فقرہ سے جو نہایت بچپن کی عمر کا ہے پتہ چلتا ہے۔کہ نہایت بچپن کی عمر سے آپ کے دل میں کیسے جذبات موجزن تھے۔اور آپ کی خواہشات کا مرکز کس طرح خدا ہی خدا ہو رہا تھا۔اور ساتھ ہی اس ذہانت کا پتہ چلتا ہے جو بچپن کی عمر سے آپ کے اندر پیدا ہو گئی تھی۔کیونکہ اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بھی آپ تمام خواہشات کا پورا کرنے والا خدا تعالی کو ہی سمجھتے تھے اور عبادت کی توفیق کا دینا بھی اس پر موقوف جانتے تھے۔نماز پڑھنے کی خواہش کرنا اور اس خواہش کو پورا کرنے والا خدا تعالی کو ہی جانا اور پھر جس گھر میں پرورش پا کر جس کے چھوٹے بڑے دنیا کو ہی اپنا خدا سمجھ رہے تھے ایک ایسی بات ہے جو سوائے کسی ایسے دل کے جو دنیا کی ملونی سے ہر طرح پاک ہو اور دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دینے کے لئے خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہو نہیں نکل سکتی۔جس زمانہ میں آپ پیدا ہوئے ہیں وہ نہایت جہالت کا زمانہ تھا اور حصول تعلیم کا زمانہ لوگوں کی تعلیم کی طرف بہت ہی کم توجہ تھی۔اور سکھوں کے زمانہ کی بات تو یہاں تک مشہور ہے کہ اگر کسی کے نام کسی دوست کا کوئی خط آجاتا تو اس کے پڑھوانے کے لئے اسے بہت مشقت اور محنت برداشت کرنی پڑتی تھی۔اور بعض دفعہ مدت تک خط پڑا رہتا تھا۔اور بہت سے رڈ ساء بالکل ان پڑھ تھے۔لیکن خدا تعالیٰ نے چونکہ آپ سے بہت بڑا کام لینا تھا اس لئے آپ کی تعلیم کا اس نے آپ کے والد کے دل میں شوق پیدا کر دیا۔اور باوجود ان دنیاوی تفکرات کے جن میں وہ مبتلا تھے انہوں نے اس جہالت کے زمانہ میں بھی اپنی اولاد کو اس زمانہ کے مناسب حال تعلیم دلانے میں کو تاہی نہ کی۔چنانچہ جب آپ بچہ ہی تھے تو آپ کے والد نے ایک استاد آپ کی تعلیم کے لئے ملازم رکھا جن کا نام فضل الہی تھا۔ان سے حضرت مرزا صاحب نے قرآن مجید اور فارسی کی چند کتب پڑھیں۔اس کے بعد دس سال کی عمر میں فضل احمد نام ایک استاد ملازم رکھے گئے یہ استاد نہایت نیک اور دیندار آدمی تھا۔اور جیسا کہ حضرت مرزا صاحب خود تحریر فرماتے ہیں۔آپ کو نہایت محنت اور محبت سے