انوارالعلوم (جلد 3) — Page 324
انوار العلوم جلد ۳۰ نجات کی حقیقت کیا حضرت موسیٰ" کے کفارہ کے مسئلہ سے پہلے بھی لوگ نجات پاتے رہے وقت جبکہ کفارہ نہیں تھا۔نجات نہیں ہو سکتی تھی۔اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت موسی بھی حضرت مسیح کے کفارہ پر ایمان رکھتے تھے اس لئے نجات پاگئے۔تو میں کہوں گا کہ وہ مجھ پر ایمان رکھتے تھے۔اس لئے نجات پاگئے۔اس بات کا ثبوت کہ حضرت موسیٰ حضرت مسیح کے کفارہ پر ایمان رکھتے تھے۔عیسائیوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے اس لئے ان کا کہنا اور میرا کہنا دونوں برابر ہیں مگر عیسائی صاحبان مانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ ، حضرت یعقوب ، حضرت اسحق و غیره انبیاء نجات یافته تھے۔حالانکہ ان کے وقت کوئی کفارہ نہ تھا۔پس معلوم ہوا کہ انکی نجات شریعت کی وجہ سے ہوئی نہ کہ کفارہ سے اور ان کی شریعت کا یہی مقصد تھا کہ زندہ خدا کو پیش کریں۔اب بھی یہی بات اسلام اسلام نے وہی طریق نجات بتایا جو گل نبیوں نے سنایا جاتا ہے۔اول، دلائل کے ساتھ خداتعالی کا ثبوت دیتا ہے اور جب کوئی مان جائے اور اسلام کے احکام پر عمل کرنا شروع کر دے تو خدا کو دیکھ بھی لیتا ہے۔خدا کی مدد اس کے ساتھ ہوتی ہے۔آئندہ کی باتیں اسے بتاتا ہے اور وہ گناہوں سے بچ جاتا ہے اور جب گناہوں سے بچ گیا تو نجات پا گیا اور صرف نجات ہی نہیں بلکہ فلاح پا گیا۔اسلام یہ طریق گناہوں کے معاف ہونے کا بتلاتا ہے۔عیسائی صاحبان کہتے ہیں۔جس طرح ایک مجسٹریٹ ملزم کو رہا گناہ معاف کرنے سے خدا غیر منصف نہیں ٹھرتا کرنے سے غیر منصف ٹھہرتا ہے۔اسی طرح اگر خدا کسی کے گناہ معاف کر دے تو وہ غیر منصف ٹھہرتا ہے لیکن ایک مجسٹریٹ اور خدا میں بہت بڑا فرق ہے۔اگر کوئی ملزم مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوتا ہے تو اس نے اس کا قصور نہیں کیا ہوتا۔بلکہ گورنمنٹ کا کیا ہوتا ہے اس لئے اسے نہیں چھوڑ سکتا لیکن ہر ایک گناہ جو انسان کرتا ہے۔وہ خدا کا ہوتا ہے اس لئے وہ معاف کر سکتا ہے۔پھر یہ بھی غلط بات ہے کہ عدالتیں کسی مجرم کو معاف نہیں کرتیں۔بنی جرائم ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے کرنے والوں کو بعض وجوہات سے معاف کر دیا جاتا ہے۔ابھی تھوڑے ہی دنوں کی بات ہے کہ عدالت نے کچھ ملزموں کو پھانسی کی سزا دی تھی لیکن وائسرائے نے انکی یہ سزا عبور دریائے شور سے بدل دی ہے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا ہر گز نہیں۔پھر عدالتیں