انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 325

ر العلوم جاد - ۳ ۳۲۵ نجات کی حقیقت اس لئے ملزم کو رہا نہیں کرتیں کہ انہیں یہ نہیں معلوم ہو تا کہ ملزم کچی تو بہ کر رہا ہے یا صرف اس سزا سے بچنے کے لئے کرتا ہے۔اب اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو وہ پھر جاکر جرم شروع کر دے۔لیکن خدا تعالیٰ تو چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی جانتا ہے جو شخص اس کے سامنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے اس کی نسبت وہ خوب جانتا ہے کہ یہ آئندہ گناہوں سے بچے گا یا نہیں ؟ اس نے لئے اگر وہ کسی کو بخش دیتا ہے۔تو اس پر کوئی اعتراض نہیں آتا۔پس اسلام یہی تعلیم دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ بچی تو بہ کو قبول کرتا ہے۔دلوں رحضور یہاں تک بیان فرما چکے تو اس عیسائی لے اور کانوں پر مہر کا کیا مطلب صاحب نے سوال کیا کہ قرآن کچھ لوگوں کی نسبت کہتا ہے کہ خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کر دی ہے۔ایسے لوگ کس طرح نجات پاسکتے ہیں۔حضور نے اس کے متعلق فرمایا کہ قرآن کریم میں یہ کسی جگہ نہیں آیا کہ کوئی انسان برا پیدا کیا گیا ہے۔یہ جو دلوں اور کانوں پر مر کے متعلق آیا ہے۔یہ اور بات ہے دیکھئے انسان کے ہاتھ میں طاقت ہے کہ کوئی چیز پکڑلے لیکن ہندوؤں میں بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے ہاتھ کو سکھا دیتے ہیں اور اس میں پکڑنے کی بالکل طاقت نہیں رہتی۔یہ کس کا قصور ہے سکھانے والے کا مگر اس کے ہاتھ کو سکھایا کس نے خدا نے اگر خدا نہ چاہتا تو ہاتھ نہ سوکھتا مگر اس کا قانون ہی یہی ہے کہ جو اس کی نعمت کی بے قدری کرتا ہے اس سے چھین لیتا ہے۔جو آپ نے کہا ہے یہ ایسے لوگوں کے متعلق ہے جو کہ اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ كم تنذر هُمْ لَا يُؤْمِنُونَ۔خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمِعهُمْ که تحقیق وہ لوگ جو کافر ہوئے در آنحالیکہ برابر ہوا ڈرانا یا نہ ڈرانا وہ توجہ ہی نہیں کرتے۔پس جبکہ وہ توجہ ہی نہیں کرتے تو انکے دلوں اور کانوں پر مہر لگ گئی۔جن لوگوں کا ذکر پہلے ہے انہیں کے دل اور کانوں کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مہر لگ گئی ہے۔خدا تعالیٰ نے ہر ایک انسان میں روحانی طاقتیں رکھی ہوئی ہیں لیکن اگر کوئی ان سے کام نہیں لیتا اور ان کو ضائع کر دیتا ہے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے پس وہ لوگ جو خدا تعالٰی کی باتوں پر غور نہیں کرتے اور اس کی باتوں کو سنکر بھی عمل نہیں کرتے۔انکی یہ طاقتیں ماری جاتی ہیں۔پھر ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہوتا ہے۔تو ایسے لوگ خود گمراہ ہوتے ہیں نہ یہ کہ ان میں ہدایت پانے کی طاقت ہی نہیں رکھی جاتی۔ے۔الحمد للہ کہ یہ صاحب اس تقریر کے اثر سے آخر احمدی ہو گئے البقرة : ٨٠٠