انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 313

ر العلوم جلد ۳۰ ۳۱۳ نجات کی حقیقت درجہ رکھتی ہے۔جس طرح ایک کالج میں ایم۔اے بی۔اے ایف۔اے اور انٹرنس کے درجے ہوتے ہیں۔یعنی کوئی اعلیٰ اور کوئی ادنی اسی طرح انسانی مدارج کے اسلام میں بھی درجے ہیں۔اور نجات بھی ایک درجہ ہے مگر اوٹی اس لئے گو اسلام اور عیسائیت اس بات میں تو متفق ہیں کہ نجات ہوتی ہے۔مگر اسلام اس کو ادنی درجہ قرار دیتا ہے۔اور عیسائیت سب سے اعلیٰ رجد دوسرا ما بہ الامتیاز پھر اسلام اور عیسائیت میں بھی فرق ہے کہ مسیحیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ نجات انسان کے اعمال سے نہیں ہوتی۔بلکہ صرف خدا کے فضل سے ہو سکتی ہے۔کیونکہ کوئی انسان تمام اعمال کو بجا نہیں لا سکا۔اس لئے خدا نے اپنے بیٹے کو دنیا کے گناہوں کے بدلے قتل کیا۔تاکہ وہ نجات پائیں۔اسلام اس بات میں تو متفق ہے کہ نجات خدا کے فضل سے ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ ہر ایک چیز کا ایک باعث ہوتا ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی چیز ہو اور اس کا کوئی باعث نہ ہو۔گو بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی چیز کا باعث معلوم نہیں ہو سکتا۔مگر ہوتا ضرور ہے اور پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس باعث کا کوئی اور باعث ہو۔مثلاً ایک شخص ایک مزدور کو چار آنے یومیہ پر نوکر رکھتا ہے۔وہ مزدور سارے دن میں جس قدر بھی محنت اور مشقت سے کام کرے۔اسی قدر وہ اپنے فرض کو اچھی طرح ادا کرنے والا ہو گا۔اور اگر ستی سے کام لیگا تو بد دیانتی کرے گا مگر بہت اچھی طرح کام کرنے سے اس کا یہ حق نہیں ہو گا کہ زیادہ مزدوری مانگے۔ہاں اگر وہ ایک دن کی بجائے ڈیڑھ دن لگائے تو اس کا حق ہو گا کہ چار آنے کی بجائے چھ آنے طلب کرے۔لیکن اگر اسپر خوش ہو کر کام کرانے والا ایک دن کی محنت کرنے پر چار آنے کی بجائے آٹھ آنے دیدے۔تو یہ زائد چار آنے اسکی مزدوری نہیں ہوگی۔بلکہ دینے والے کا اس پر رحم اور فضل ہو گا۔لیکن یہ فضل کیوں اس پر ہوا؟ کسی اور پر کیوں نہ ہو گیا۔اس لئے کہ اس نے کچھ محنت کی تھی۔اس محنت نے فضل کو کھینچا ہے۔گو یہ فضل اس محنت کا نتیجہ نہیں کیونکہ اس کا نتیجہ تو صرف چار آنے ہے۔لیکن اس نے اس فضل کو حاصل کرایا ہے اسی طرح اسلام نجات کے متعلق کہتا ہے کہ وہ ہوگی تو خدا کے فضل سے۔مگر خدا کے فضل کو کھینچنے والے اس کے اعمال ہی ہوں گے۔دنیا کے تمام کاروبار میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ گو ایک بات دوسرے کے نتیجہ میں نہیں ہوتی۔مگر اس کی وجہ سے ہوتی ہے۔مثلا گورنمنٹ فوج کے آدمیوں کو جو تنخواہ دیتی ہے وہ انہیں اس زیادہ سے زیادہ کوشش