انوارالعلوم (جلد 3) — Page 7
انوار العلوم جلد ۳۰ چند غلط فہمیوں کا ازالہ نبی کہتا تھا اور بعد میں اس نے آپ کو نبی بنا دیا اور نہ میں نے یہ لکھا ہے کہ پہلے حضرت مسیح موعود اپنی نسبت یہ لکھتے تھے کہ مجھے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی ہے اور میری نبوت سے یہی مراد ہے اور بعد میں اس سے بڑھ کر کوئی اور دعویٰ شروع کر دیا۔بلکہ میں نے اپنے رسالہ "القول الفصل " کے صفحہ ۱۹ پر صاف لکھا ہے کہ : میں اس مضمون کے ختم کرنے سے پہلے یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مسئلہ نبوت کے متعلق حضرت مسیح موعود پر دو زمانے گزرے ہیں۔ایک تو وہ زمانہ تھا کہ آپ کو جب اللہ تعالٰی کی وحی میں نبی کہا جاتا تو آپ اس پرانے عقیدہ کی بناء پر جو اس وقت کے مسلمانوں میں پھیلا ہوا تھا۔اپنے آپ کو نبی قرار دینے کی بجائے ان الہامات کے یہ معنی کر لیتے تھے کہ نبی سے مراد صرف ایک جزوی نبوت ہے اور بعض دوسرے انبیاء پر جو مجھے فضیلت دی گئی ہے وہ بھی ایک جزوی فضلیت ہے۔اور جزوی فضلیت ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے"۔اب اس عبارت پر غور کرو۔کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ حضرت مسیح موعود پہلے جزوی نبی تھے اور بعد میں نبی ہو گئے یا اس کا یہ مطلب ہے کہ نبی تو ہمیشہ سے آپ کو کہا جاتا تھا اور آپ شروع دعوی سے نبی ہی تھے۔لیکن ایک وقت تک احتیاط انبیاء سے کام لے کر آپ لفظ نبی کی تاویل کر لیا کرتے تھے۔مگر کیسے تعجب کی بات ہے کہ جناب مولوی صاحب ایسی صاف عبارت کے ہوتے ہوئے لکھتے ہیں " آپ اس حد تک اور بھی ہمارے ساتھ متفق ہیں کہ بے شک یہی مجددیت والی نبوت ہی اوائل میں حضرت مسیح موعود کو ملی تھی۔مگر آپ کا خیال ہے کہ کچھ مدت بعد نبوت جزئی کے مرتبہ سے آپ کو ترقی دے کر نبوت تامہ کاملہ کا خلعت پہنایا گیا۔اور اس کے مقابل میرا یہ دعویٰ ہے کہ نبوت تامہ کاملہ کا خلعت آپ کو کبھی نہیں پہنایا گیا"۔(صفحہ ۳) اب انصاف پسند طبائع اس بات پر غور کریں کہ میں تو صاف لکھتا ہوں ایک غلطی کا اظہار کہ حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ کے الہامات میں نبی پہلے سے کہا جاتا تھا۔لیکن عام مسلمانوں کے عقیدہ کے ماتحت آپ اس کی تاویل کر لیتے تھے اور مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں حضرت مسیح موعود پہلے جزوی نبی تھے پھر نبی بن گئے۔کیا القول الفصل کی وہ عبارت جو میں اوپر نقل کر آیا ہوں کسی ایسی زبان میں ہے جسے مولوی محمد علی صاحب سمجھ نہ سکتے تھے۔القول الفصل کی عبارت صاف ہے۔اس کے معنی پیچ دار