انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 310

٣١٠ نجات کی حقیقت اس سے بچنے کی کوشش کرے گا۔اس وقت تک اس سے کئی گناہ سرزد ہو جائیں گے۔کیونکہ خدا کی شریعت اس لئے آتی ہے کہ سب پر پورا پورا عمل کیا جائے۔اگر کسی نے ایک حکم بھی توڑ دیا تو ضرور ہے کہ وہ سزا پائے۔اور اگر خدا کسی ایسے گنہگار کو سزا نہ دے تو ظالم ٹھرتا ہے لیکن خدا کا رحم چاہتا ہے کہ بخشدے کیونکہ وہ ماں باپ سے زیادہ محبت اور پیار کرنے والا ہے۔اس لئے اس نے یہ تجویز کی کہ ایک بے گناہ کو جو اپنے اندر الوہیت کی شان بھی رکھتا تھا پکڑ کر صلیب پر چڑھا دیا۔اور جس طرح ایک قرضدار کا قرضہ اگر کوئی اور ادا کر دے تو ادا ہو جاتا ہے۔اسی طرح ہمارے گناہوں کی سزا یسوع مسیح نے اٹھالی۔اور ہم بخشے گئے۔اس طرح خدا کا عدل بھی قائم رہا۔اور محبت بھی پوری ہو گئی یہ مسیحیوں کا اعتقاد ہے۔اس کے مقابلہ میں اسلام کہتا ہے کہ ہر ایک انسان کی نجات اپنے اسلامی فلسفه نجات اعمال کے ذریعہ ہوگی۔جب تک کوئی انسان خود نیکی اور تقویٰ نہ اختیار کرے گا۔گناہوں اور بدیوں اور عیبوں سے نہ بچے گا۔نجات کا مستحق نہیں ہو سکے گا۔اس کے علاوہ عیسائیت اور اسلام کے اسلام کا مطمح نظر عیسائیت سے بلند تر ہے دعوئی ہی میں بہت بڑا فرق ہے۔اور وہ یہ کہ اسلام صرف نجات کی طرف نہیں بلاتا۔یہ مسیحی اور دیگر مذاہب مثلاً بدھ وغیرہ کا آئڈیا ہے۔اور اسلام کا مطمح نظر اس سے بہت ہی بلند ہے۔جس کے مقابلہ میں نجات کچھ چیز ہی نہیں۔نجات کے معنی تو دیکھ اور تکالیف سے بچ جانے کے ہوتے ہیں لیکن انسان کی فطرت میں نہ صرف دکھ سے بچنے کی خواہش ہے بلکہ آرام اور سکھ حاصل کرنے کی بھی تمنا ہے۔وہ انسان جو کسی ایسی زمین پر بیٹھا ہو جہاں کانٹے نہ ہوں وہ دکھ سے بچا ہوا ہو گا۔مگر وہ انسان جو گدیلے والی کرسی پر بیٹھا ہو گا وہ نہ صرف دکھ سے بچا ہو گا۔بلکہ آرام بھی پا رہا ہو گا۔اسی طرح ایک انسان کے پیٹ میں درد نہیں۔آنکھیں نہیں رکھتیں تو وہ سکھ میں ہے۔مگر ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کی صحت ایسی نہ ہو کہ اسے فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہو۔تو دکھ سے بچنا علیحدہ بات ہے اور راحت اور آرام محسوس کرنا علیحدہ اسلام یہی پیش کرتا ہے۔کیونکہ جب انسانی فطرت میں آرام حاصل کرنے کی بھی خواہش ہے۔اور یہ دکھ سے بچ جانے کے علاوہ بات ہے تو کیوں نہ یہی انسان کو حاصل ہو۔دیکھئے ایک بے علم انسان ہے۔اس کو اس بات سے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوگی کہ میں فلاں کتاب نہیں پڑھ سکتا۔لیکن جو شخص علم حاصل کر لے گا۔اس کے لئے یہ