انوارالعلوم (جلد 3) — Page 309
انوارا بسم اللہ الرحمن الرحیم ۳۰۹ نحمده و فصلی علی رسولہ الکریم نجات کی حقیقت نجات کی حقیقت از افاضات سید نا حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی مؤرخہ ۲۵ مارچ ۱۹۱۶ء کو ایک عیسائی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے حضور عرض کی کہ میں آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے اصلی اور حقیقی نجات دہندہ کا پتہ بتا ئیں آج تک میں جسکو اپنے لئے نجات دہندہ اور راہنما سمجھتا رہا ہوں۔معلوم ہوا ہے کہ وہ بجائے نجات دلانے کے مجھے کسی اور طرف لے جارہا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ یسوع مسیح جس کی نسبت میرا اعتقاد ہے کہ اس نے ہمارے لئے رکھ اٹھائے۔مصیبتیں نہیں۔حتی کہ مارا گیا کہ ہم نجات پائیں اس سے اچھا مجھے کوئی نجات دہندہ بتایا جائے۔حضور اس وقت ڈاک دیکھنے کے لئے تشریف لائے تھے اس وقت یہ تقرر فرمائی۔رایڈیٹر) حضور نے فرمایا۔نجات کے متعلق مسیحی مذہب اور اسلام میں جو عیسائی فلسفہ نجات اختلاف ہے۔میں پہلے اس کو بتاتا ہوں۔مسیحی مذہب میں نجات کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ آدم نے گناہ کیا اس لئے وہ درہ کے طور پر سب انسانوں میں آگیا۔جس طرح باپ کی دولت ورثہ میں سب بیٹوں کو آتی ہے اسی طرح آدم جو سب کا باپ ہے۔اس کا گناہ اس کی اولاد میں یعنی انسان میں آگیا۔اس سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا۔اور جب تک