انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 293

م جلد - - +۔۲۹۳ اس پر تو کل رکھتے ہیں اس طرح پورا کیا کرتا ہے۔تم کبھی دوسرے پر بھروسہ نہ رکھو۔سوال ایک زبان سے ہوتا ہے اور ایک نظر سے تم نظر سے بھی کبھی سوال نہ کرو۔پس جب تم ایسا کرو گے تو پھر خدا تعالی خود سامان کرے گا۔اس صورت میں جب کوئی تمہیں کچھ دیگا بھی تو دینے والا پھر تم پر احسان نہیں سمجھے گا بلکہ تمہارا احسان اپنے اوپر سمجھے گا۔مبلغ کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر خادمانہ حیثیت لوگوں سے تعلقات رکھے۔لوگوں نے یہ نکتہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے۔بعض نے سمجھا کہ نوکر چاکروں کی طرح کام کرے۔یہ مراد نہیں اس غلط فہمی کی وجہ سے ملانے پیدا ہوئے جن کے کام مردے نہلانا ہوا کرتا ہے۔کوئی بیمار ہو جائے تو کہتے ہیں بلاؤ میاں جی کو وہ آکر اس کی خدمت کریں۔کھیتی کاٹنی ہو تو چلو میاں جی۔گویا میاں جی سے وہ نائی دھوبی جس طرح ہوتے ہیں اس طرح کام لیتے ہیں۔دوسری صورت پھر پیروں والی ہے۔پیر صاحب چارپائی پر بیٹھے ہیں کسی کی مجال نہیں کہ پیر صاحب کے سامنے چارپائی پر بیٹھ جاوے۔حافظ صاحب سناتے تھے ان کے والد بھی بڑے پیر تھے لوگ ہمیں آکر سجدے کیا کرتے تھے۔تو میں نے ایک دفعہ اپنے باپ سے سوال کیا کہ ہم تو مسجد میں جاکر سجدے کسی اور کے آگے کرتے ہیں اور یہ لوگ ہمیں سجدے کرتے ہیں اس پر میرے والد نے ایک لمبی تقریر کی۔تو ایک طرف کا نتیجہ میاں جی پیدا ہوئے جو جھوٹی گواہی دینی ہوئی تو چلو میاں جی۔اور اگر انکار کریں تو کہدیا کہ تمہیں رکھا ہوا کیوں ہے۔آپ قیامت کی کے دن کیا خاک کام آئیں گے جو اس دنیا میں کام نہ آئے۔اور دوسری طرف پیر صاحب جیسے پیدا ہو گئے تو دونوں کا نتیجہ خطرناک نکلا۔یہ بڑی نازک راہ ہے۔مبلغ خادم ہو اور ایسا خادم ہو کہ لوگوں کے دل میں اس کا رعب ہو۔خدمت کرنے کے لئے اپنی مرضی سے جائے۔ڈاکٹر پاخانہ اپنے ہاتھوں سے نکالتے ہیں لیکن کوئی انہیں بھنگی نہیں کہتا۔ڈاکٹر اپنے ہاتھوں سے بنا کر دوائی بھی پلاتے ہیں لیکن کوئی انہیں کمپونڈر نہیں کہتا۔وہ بیمار کی خاطر داری بھی کرتے ہیں لیکن کوئی انہیں ان کا خادم نہیں کہتا۔یہ اس کی شفقت سمجھی جاتی ہے۔اس لئے جب تم میں بھی تو کل ہو گا اور تم کسی کی خدمت کسی بدلے کے لئے نہیں کرو گے تو پھر تمہاری بھی ایسی ہی تو قدر ہو گی۔وہ شفقت سمجھی جائے گی۔وہ احسان سمجھا جائے گا۔اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو اس کی تشفی دینے والا ہمارا مبلغ ہو۔کوئی بیوہ ہو تو