انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 292

۲۹۲ نصائح مبلغین م جلد ۳۰ میرا اپنا تجربہ ہے کہ جب ضرورت ہوتی اللہ پر توکل کرو۔وہ خود تمہارا کفیل ہو گا ہے تو خدا تعالیٰ کہیں نہ کہیں سے بھیج دیتا ہے۔خدا تعالیٰ خود لوگوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے۔جو دوسروں کا محتاج ہو پھر اس کے لئے ایسا نہیں ہوتا۔ہاں اللہ تعالٰی پر کوئی بھروسہ کرے تو پھر اللہ تعالٰی اس کے لئے سامان پیدا کرتا ہے۔حضرت مولوی صاحب سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مجھے کچھ ضرورت پیش آئی میں نے نماز میں دعا مانگی مصلی اٹھانے پر ایک پونڈ پڑا تھا میں نے اسے لیکر اپنی ضرورت پر خرچ کیا۔تو خدا تعالیٰ خود سامان کرتا ہے کسی کو الہام کرتا ہے کسی کو خواب دکھاتا ہے اس طرح اس کی ضرورت پوری کرتا ہے۔لیکن کبھی اس طرح پر بھی ہوتا ہے کہ وہ ضرورت ہی نہیں رہتی۔ابتدائی مرحلہ یہی ہے کہ اس کی ضروریات ہی نہیں بڑھتیں اور اگر ضروریات پیش آتی ہیں تو پھر ایسے سامان کئے جاتے ہیں کہ وہ مٹ جاتی ہیں۔مثلاً ایک شخص بیمار ہے اب اس کے لئے دوائی وغیرہ کے لئے روپوں کی ضرورت ہے۔دعا کی۔بیمار ہی اچھا ہو گیا تو اب روپوں کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔تو ابتدائی مرحلہ یہی ہے کہ ضرورت پیش ہی نہیں آتی۔پہلی حکمت یہ ہے کہ وہ لوگوں کا محتاج ہی نہیں ہوتا۔دوسری حکمت یہ ہے کہ لوگوں کا رجوع اس کی طرف ہو جاتا ہے۔خدا خود لوگوں کے ذریعے سے سامان کراتا ہے۔ہمارے سلسلے کے علماء اور دوسرے مولویوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو ان کو لوگ خود نذر پیش کرتے ہیں۔اور مولوی مانگتے پھرتے ہیں۔ایک پیر تھا وہ ایک اپنے مرید کے گھر گیا وہ مرید اسے جب وہ آتا تھا ایک روپیہ دیا کرتا تھا اس دن اس نے ایک اٹھنی پیش کی۔پیر نے لینے سے انکار کیا اور کہا کہ میں تو روپیہ لوں گا۔غرض وہ اٹھنی دیتا تھا وہ روپیہ مانگتا تھا۔بہت تکرار کے بعد اس مرید نے کہا جاؤ میں نہیں دیتا۔تمام رات وہ پیر باہر کھڑا رہا رات کو بارش ہوئی تھی اس میں بھیگا۔صبح کہنے لگا کہ اچھا لاؤ اٹھنی۔تو یہ حالت ہوتی ہے جو دوسروں کے محتاج ہیں۔زلزلے کا ذکر ہے با ہر باغ میں ہم ہوتے تھے۔حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی۔فرمانے لگے قرض لے لیں پھر فرمانے لگے قرضہ ختم ہو جائے گا۔تو پھر کیا کریں گے چلو خدا سے مانگیں نماز پڑھ کر جب آئے تو فرمانے لگے ضرورت پوری ہو گئی۔ایک شخص بالکل میلے کچیلے کپڑوں والا نماز کے بعد مجھے ملا۔علیکم کر کے اس نے ایک تھیلی نکال کر دی۔اس کی حالت سے میں نے سمجھا کہ یہ پیسوں کی تھیلی ہو گی کھولا تو معلوم ہوا کہ دو سو روپیہ ہے۔تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی حاجات کو جو السلام