انوارالعلوم (جلد 3) — Page 245
رالعلوم جلد ۳۰ ۲۴۵ اسلام اور دیگر مذاہب تلوار رکھتے ہیں اور بارہا ایسا ہوا ہے کہ اگر کسی وقت وہ کو ڑایا تلوار بھول گئے اور وہ یونہی اس کو درندہ کے پاس چلے گئے تو اس نے ان پر حملہ کر دیا اور قتل یا زخمی کر دیا یہی حال بعض درنده ای طبع انسانوں کا ہوتا ہے کہ وہ بھی محبت اور پیار سے کبھی نہیں مانتے۔بہت ہیں کہ وہ اپنے والدین تک کو کہ جن کے احسانات انسانوں میں سے سب سے زیادہ ہوتے ہیں زدو کوب کرتے ہیں اور ان سے سخت حقارت و نفرت کرتے ہیں اور بعض بالغ ہو کر ان کی جائیداد پر قبضہ کرنے کے لئے ان کو زہر تک دے دیتے ہیں۔لیکن یہی لوگ حکام وقت کے سامنے نہیں بولتے اور بظاہر ان کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور ان کے سامنے ایسے ہو جاتے ہیں کہ جیسے کوئی شرمیلا بچہ ہوتا ہے۔اور یہ ان کا تعلق اور فرمانبرداری صرف اسی خوف کی وجہ سے ہوتی ہے کہ اگر ظاہر میں ہم نے قانون توڑ دیا تو ہمیں سزا ملے گی ورنہ اگر حکام وقت اور حکومت ملک ان کو صرف پیار اور محبت سے منوانا چاہے تو وہ ایک دن میں اس سے جدا ہو جائیں اور فورا اس کا مقابلہ شروع کر دیں۔غرض انسانی فطرت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلق دو وجہ سے ہوتے ہیں یا تو محبت سے یا خوف سے۔اسی طرح محبت کے اسباب کو جب ہم دیکھتے ہیں تو اس کے بھی دو سبب محبت کے اسباب معلوم ہوتے ہیں یا حسن یا احسان یعنی یا تو انسان کسی نئے سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ وہ اسے اچھی لگتی ہے اور خوبصورت معلوم ہوتی ہے خواہ شکل کے لحاظ سے خواہ اخلاق کے لحاظ سے خواہ علم کے لحاظ سے خواہ عقل کے لحاظ سے غرض کسی قسم کی خوبصورتی ہو بعض انسان اس پر فدا ہوتے ہیں۔سجے ہوئے مکان اور تصاویر اور سبزہ زار زمینیں اور بعض بے خوشبو کے خوش رنگ پھول اس قسم کی اشیاء میں سے ہیں کہ جن سے انسان اس لئے محبت کرتا ہے کہ وہ خوبصورت ہیں ورنہ ان سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ ان پر خرچ کرنا پڑتا ہے اسی طرح خوبصورت انسانوں سے لوگ محبت کرتے ہیں اور یہ خوبصورتی جیسا کہ اوپر بیان ہوا کئی قسم کی ہوتی ہیں کبھی تو ان کی شکل خوبصورت ہوتی ہے اور کبھی ان کے اخلاق اور ان کا علم و عقل و غیرہ خصائل و قو تیں اچھی ہوتی ہیں۔اس لئے ان سے لوگ محبت کرتے ہیں دوسرا سبب محبت پیدا کرنے کا احسان ہوتا ہے اور بہت سے تعلقات محبت احسان کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں چنانچہ ماں باپ سے محبت کا ایک بہت بڑا باعث ان کے احسانات بھی ہوتے ہیں جو وہ بچہ کے پیدا ہونے سے لے کر اس کے بر سر کار ہونے تک اس پر کرتے ہیں۔اسی طرح