انوارالعلوم (جلد 3) — Page 246
اسلام اور دیگر مذاہب ایک ملازم اپنے محسن آقا سے محبت کرتا ہے اور ایک آتا اپنے وفادار خادم سے محبت کرتا ہے اور وفا بھی ایک قسم احسان کی ہی ہوتی ہے کیونکہ وفا احسان کے بدلہ کا نام ہے اور احسان کا بدلہ سوائے احسان کے اور کیا ہو سکتا ہے۔اسی طرح خاوند اور بیوی کی محبت ہوتی ہے کہ وہ بھی حسن و احسان دونوں ذرائع سے پیدا ہوتی ہے۔غرض جس قدر محبت کے تعلقات ہوتے ہیں وہ تو سب کے سب حسن اور احسان سے متفرع ہوتے ہیں چنانچہ بھائیوں کی محبت بھی انہیں دو ذرائع۔سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ یہ محبت طفیلی ہوتی ہے اور دراصل اس کا باعث وہ تعلق ہے جو اولاد کو ماں باپ سے ہوتا ہے اور چونکہ بھائی بہن ایک محبوب کے محبوب بلکہ جزو بدن ہوتے ہیں اس لئے بالطبع ایک بھائی دوسرے بھائی یا بہن سے محبت کرتا ہے اور بہت دفعہ نہیں جانتا کہ اس محبت کا باعث کیا ہے۔غرض محبت کا باعث یا تو حسن ہوتا ہے یا احسان۔اور احسان کا تعلق پھر دو تم پر منقسم ہے یا تو کسی کے احسان کی وجہ سے ایک شخص سے محبت کی جاتی ہے یا اپنی محسن طبیعت کی وجہ سے کوئی شخص دوسرے سے محبت کرتا ہے اور یہ محبت رأفت و شفقت ہوتی ہے جو اس کی اپنی محسن طبیعت کا نتیجہ ہوتی ہے جب ہم انسانی فطرت کا اور بھی گہرا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بعض آدمیوں کے اندر تو یہ تینوں خاصے پائے جاتے ہیں یعنی ان کے تعلقات تینوں قسم کے ہوتے ہیں بعض خوف سے بعض محبتِ حسن سے بعض محبتِ احسان سے لیکن بعض کے اندر ان تینوں خاصوں میں سے ایک یا دو بعض وجوہ سے تلف بھی ہو جاتے ہیں یعنی وہ صرف حسن یا صرف احسان یا صرف خوف کے جذبات سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسرے جذبہ کا ہیجان ان کے اندر نہیں ہوتا۔بہت سے لوگ ایسے دیکھے جائیں گے کہ جب تک محبت سے ان سے کام لیتے رہو وہ خوشی سے کریں گے۔ذرا ان پر سختی کر دیا رعب بٹھاؤ وہ نور امقابلہ کیلئے کھڑے ہو جائیں گے۔بعض لوگ محبت کے دونوں بواعث یعنی حسن یا احسان کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کریں گے لیکن خوف سے فورا مطیع ہو جائیں گے۔انسانی فطرت کے اس مطالعہ کے بعد ہمیں لا محالہ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہی تعلیم ہر ایک زمانہ اور ہر ایک ملک اور ہر ایک انسان کے لئے مفید ہو سکتی ہے جس میں ان تینوں جذبات کو ہیجان میں لا کر تعلق پیدا کرنے کی صورت کی جائے اور اگر کوئی مذہب ایسا ہے جو صرف خدائے تعالیٰ کے حسن پر زور دیتا ہے اور ایسی محبت کی طرف انسان کو بلاتا ہے جس کا باعث کوئی خواہش یا طلب انعام نہ ہو اور کسی بدلہ کی امید جس کے ساتھ نہ ہو تو وہ ایک انسانی گروہ کا تو لحاظ کر لیتا