انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxvii of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page xxvii

العلوم جلد ۳ اور اگر نہ پوری ہو تو مردہ "۔مذہب کی غرض حضور کے الفاظ میں یہ ہے کہ : ”ہمارا مقصد مذہب کے اختیار کرنے سے خدا تعالیٰ تک پہنچنا اور بدیوں اور گناہوں سے نجات پانا ہے اگر وہ حاصل ہو جاتا ہے تو ہم جان دینے کے لئے بھی تیار ہیں اور اگر وہ حاصل نہیں ہوتا تو پھر اس کے اختیار کرنے کی ضرورت ہی نہیں"۔تعارف کر اس کے بعد حضور نے بعض مشہور مذاہب کی تعلیمات بیان کرنے اور ان کا اسلامی تعلیم سے موازنہ کرنے کے بعد فرمایا : پس جس مذہب میں یہ باتیں حاصل ہوں وہی زندہ مذہب ہو سکتا ہے اور اسی کو قبول کرنا چاہئے اور وہ صرف اسلام ہے اس کا یہ دعوئی ہے کہ وحی کا دروازہ اب بھی کھلا ہے جس کے ذریعہ خدا اپنے بندوں کے ساتھ اپنی محبت اور پیار کا اظہار کرتا ہے اور کرتا رہے گا"۔اس امر کے ثبوت کے طور پر حضور نے حضرت مسیح موعود کی صداقت کے بعض نشانات کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں فرمایا : ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام سچا ہے اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب بچے ہیں اس کے فیصلہ کا آسان طریق یہ ہے کہ مشاہدہ کر لیا جائے کہ کون سا مذہب سچا ہے اور جب مشاہدہ ہو سکتا ہے تو پھر کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے لیکن اس میدان میں صرف اسلام ہی کھڑا رہے گا"۔☆