انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 201

بلکہ انوار خلافت ہو گیا کہ حضرت عائشہ کا اونٹ جنگ کا مرکز بن گیا۔صحابہ اور بڑے بڑے بہادر اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور ایک کے بعد ایک قتل ہونا شروع ہوا لیکن اونٹ کی باگ انہوں نے نہ چھوڑی۔حضرت زبیر تو جنگ میں شامل ہی نہ ہوئے اور ایک طرف نکل گئے مگر ایک شقی نے ان کے پیچھے سے جاکر اس حالت میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ان کو شہید کر دیا۔حضرت طلحہ عین میدان جنگ میں ان مفسدوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔جب جنگ تیز ہو گئی تو یہ دیکھ کر کہ اس وقت تک جنگ ختم نہ ہوگی جب تک حضرت عائشہ کو درمیان سے ہٹایا نہ جائے۔بعض لوگوں نے آپ کے اونٹ کے پاؤں کاٹ دیئے۔اور ہودج اتار کر زمین پر رکھ دیا۔تب کہیں جاکر جنگ ختم ہوئی۔اس واقعہ کو دیکھ کر حضرت علی کا چہرہ مارے رنج کے سرخ ہو گیا لیکن یہ جو کچھ ہوا اس سے چارہ بھی نہ تھا جنگ کے ختم ہونے پر جب مقتولین میں حضرت طلحہ کی نعش ملی تو حضرت علی نے سخت افسوس کیا۔ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس لڑائی میں صحابہ" کا ہر گز کوئی دخل نہ تھا یہ شرارت بھی قاتلان عثمان کی ہی تھی۔اور یہ کہ طلحہ اور زبیر حضرت علی کی بیعت ہی میں فوت ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے ارادہ سے رجوع کر لیا تھا اور حضرت علی کا ساتھ دینے کا اقرار کر لیا تھا۔لیکن بعض شریروں کے ہاتھوں سے مارے گئے چنانچہ حضرت علی نے ان کے قاتلوں پر لعنت بھی کی۔ادھر تو یہ جنگ ہو رہی تھی۔ادھر عثمان کے قاتلوں کا گروہ جو معاویہ کے پاس چلا گیا تھا۔اس نے وہاں ایک کہرام مچا دیا۔اور وہ حضرت عثمان " کا بدلہ لینے پر آمادہ ہو گئے۔جب حضرت علی کے لشکر سے ان کا لشکر ملا۔اور درمیان میں صلح کی بھی ایک راہ پیدا ہونے لگی تو ایک جماعت فتنہ پردازوں کی حضرت علی " کا ساتھ چھوڑ کر الگ ہو گئی۔اور اس نے یہ شور شروع کر دیا کہ خلیفہ کا وجود ہی خلاف شریعت ہے احکام تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہی ہیں باقی رہا انتظام مملکت سو یہ ایک انجمن کے سپرد ہونا چاہئے۔کسی ایک شخص کے ہاتھ میں نہیں ہوتا چاہئے۔اور یہ لوگ خوارج کہلائے۔اب بھی جو لوگ ہمارے مخالف ہیں ان کا یہی دعوئی ہے اور ان کے وہی الفاظ ہیں جو خوارج کے تھے۔اور یہ بھی ہماری صداقت کا ایک ثبوت ہے کہ ان لوگوں کو اس جماعت سے مشابہت حاصل ہے جسے کل مسلمان بالاتفاق کراہت کی نگاہ سے دیکھتے چلے آئے ہیں اور ان کی غلطی کے معترف ہیں۔