انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 200

انوار العلوم جلد - ۳ انوار خلافت من کہ آپ نے میرے لڑنے کے لئے تو لشکر تیار کیا ہے مگر کیا خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لئے کوئی عذر بھی تیار کیا ہے۔آپ لوگ کیوں اپنے ہاتھوں سے اس اسلام کے تباہ کرنے کے درپے ہوئے ہیں جس کی خدمت سخت جانکاہیوں سے کی تھی۔کیا میں آپ لوگوں کا بھائی نہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ پہلے تو ایک دوسرے کا خون حرام سمجھا جاتا تھا لیکن اب حلال ہو گیا اگر کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہوتی تو بھی بات تھی جب کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوئی تو پھر یہ مقابلہ کیوں ہے اس پر حضرت طلحہ نے کہا۔وہ بھی حضرت زبیر کے ساتھ تھے کہا کہ آپ نے حضرت عثمان کے قتل پر لوگوں کو اکسایا ہے۔حضرت علی نے فرمایا کہ میں حضرت عثمان کے قتل میں شریک ہونے والوں پر لعنت کرتا ہوں پھر حضرت علی نے حضرت زبیر سے کہا کہ کیا تم کو یاد نہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ خدا کی قسم تو علی سے جنگ کرے گا اور تو ظالم ہو گا۔یہ کر حضرت زبیر اپنے لشکر کی طرف واپس لوٹے اور قسم کھائی کہ وہ حضرت علی سے ہرگز جنگ نہیں کریں گے اور اقرار کیا کہ انہوں نے اجتہاد میں غلطی کی۔جب یہ خبر لشکر میں پھیلی تو سب کو اطمینان ہو گیا کہ اب جنگ نہ ہوگی بلکہ صلح ہو جائے گی لیکن مفسدوں کو سخت گھبراہٹ ہونے لگی۔اور جب رات ہوئی تو انہوں نے صلح کو روکنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ان میں سے جو حضرت علی کے ساتھ تھے انہوں نے حضرت عائشہ اور حضرت طلحہ و زبیر کے لشکر پر رات کے وقت شب خون مار دیا۔اور جو ان کے لشکر میں تھے انہوں نے حضرت علی کے لشکر پر شب خون مار دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شور پڑ گیا۔اور ہر فریق نے خیال کیا کہ دوسرے فریق نے اس سے دھوکا کیا حالانکہ اصل میں یہ صرف سبائیوں کا ایک منصوبہ تھا۔جب جنگ شروع ہو گئی تو حضرت علی نے آواز دی کہ کوئی شخص حضرت عائشہ کو اطلاع دے۔شاید ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی اس فتنہ کو دور کر دے۔چنانچہ حضرت عائشہ کا اونٹ آگے کیا گیا لیکن نتیجہ اور بھی خطرناک نکلا مفسدوں نے یہ دیکھ کر کہ ہماری تدبیر پھر الٹی پڑنے لگی۔حضرت عائشہ کے اونٹ پر تیر مارنے شروع کئے۔حضرت عائشہ نے زور زور سے پکارنا شروع کیا کہ اے لوگوا جنگ کو ترک کرو۔اور خدا اور یوم حساب کو یاد کرو لیکن مفسد باز نہ آئے اور برابر آپ کے اونٹ پر تیر مارتے چلے گئے۔چونکہ اہل بصرہ اس لشکر کے ساتھ تھے۔جو حضرت عائشہ کے ارد گرد جمع ہوا تھا۔ان کو یہ بات دیکھ کر سخت طیش آیا اور ام المومنین کی یہ گستاخی دیکھ کر ان کے غصہ کی کوئی حد نہ رہی اور تلواریں کھینچ کر لشکر مخالف پر حملہ آور ہو گئے۔اور اب یہ حال