انوارالعلوم (جلد 3) — Page 195
العلوم جلد۔۱۹۵ انوار خلافه اور اہل مدینہ اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال دیں گے۔لیکن خاموش نہ رہیں گے تو انہوں نے اعلان کیا کہ حج کا موسم ہے لوگوں کو حسب معمول حج کے لئے جانا چاہئے اور عبد اللہ بن عباس کو جو ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آپ کا دروازہ نہیں چھوڑا تھا۔فرمایا کہ تم کو میں حج کا امیر مقرر کرتا ہوں۔انہوں نے کہا اے امیر المؤمنین اخدا کی قسم یہ جہاد مجھے حج سے بہت زیادہ پیارا ہے مگر آپ نے ان کو مجبور کیا کہ فورا چلے جائیں اور حج کا انتظام کریں۔اس کے بعد اپنی صیت لکھ کر حضرت زبیر کے پاس بھیجوا دی اور ان کو بھی رخصت کیا۔چونکہ حضرت ابو بکر کے چھوٹے لڑکے محمد ان باغیوں کے فریب میں آئے ہوئے تھے۔ان کو ایک عورت نے کہلا بھیجا کہ شمع سے نصیحت حاصل کرو وہ خود جلتی ہے اور دوسروں کو روشنی دیتی ہے پس ایسا نہ کرو کہ خود گنہگار ہو کر ان لوگوں کے لئے خلافت کی مسند خالی کرو جو گنہگار نہیں۔خوب یاد رکھو کہ جس کام کے لئے تم کوشش کر رہے ہو وہ کل دوسروں کے ہاتھ میں جائے گا۔اور اس وقت آج کا عمل تمہارے لئے باعث حسرت ہوگا۔لیکن ان کو اس جوش کے وقت اس نصیحت کی قدر معلوم نہ ہوئی۔غرض ادھر تو حضرت عثمان اہل مدینہ کی حفاظت کے لئے ان کو ان باغیوں کا مقابلہ کرنے سے روک رہے تھے اور ادھر آپ کے بعض خطوط سے مختلف علاقوں کے گورنروں کو مدینہ کے حالات کا علم ہو گیا تھا اور وہ چاروں طرف سے لشکر جمع کر کے مدینہ کی طرف بڑھے چلے آ رہے تھے۔اسی طرح حج کے لئے جو لوگ جمع ہوئے تھے ان کو جب معلوم ہوا۔تو انہوں نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ حج کے بعد مدینہ کی طرف سب لوگ جائیں اور ان باغیوں کی سرکوبی کریں۔جب ان حالات کا علم باغیوں کو ہوا تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ یہ غلطی جو ہم سے ہوئی ہے کہ ہم نے اس طرح خلیفہ کا مقابلہ کیا ہے اس سے پیچھے ہٹنے کا اب کوئی راستہ نہیں۔پس اب یہی صورت نجات کی ہے کہ عثمان کو قتل کر دو۔جب انہوں نے یہ ارادہ کر کے حضرت عثمان کے مکان پر حملہ کیا تو صحابہ تلواریں کھینچ کر حضرت عثمان کے دروازہ پر جمع ہو گئے۔مگر حضرت عثمان نے ان کو منع کیا اور کہا کہ تم کو میں اپنی مدد کے عہد سے آزاد کرتا ہوں تم اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ لیکن اس خطرناک حالت میں حضرت عثمان کو تنہا چھوڑ دینا انہوں نے گوارا نہ کیا اور واپس لوٹنے سے صاف انکار کر دیا۔اس پر وہ اسی سالہ بوڑھا جو ہمت میں بہادر جوانوں سے زیادہ تھا ہاتھ میں تلوار لے کر اور ڈھال پکڑ