انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 196

أنوار العلوم جلد - ۳ 194 کر اپنے گھر کا دروازہ کھول کر مردانہ وار صحابہ کو روکنے کے لئے اپنے خون کے پیاسے دشمنوں کو میں نکل آیا۔اور آپ کے اس طرح باہر نکل آنے کا یہ اثر ہوا کہ مصری جو اس وقت حملہ کر رہے تھے الٹے پاؤں لوٹ گئے اور آپ کے سامنے کوئی نہ ٹھہرا۔آپ نے صحابہ کو بہت روکا لیکن انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہم آپ کی بات نہ مانیں گے کیونکہ آپ کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔آخر حضرت عثمان ان کو اپنے گھر میں لے آئے اور پھر دروازہ بند کر لیا۔اس وقت صحابہ نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین اگر آج آپ کے کہنے پر ہم لوگ گھروں کو چلے جائیں تو خدا تعالٰی کے سامنے کیا جواب دیں گے کہ تم میں حفاظت کی طاقت تھی پھر تم نے حفاظت کیوں نہ کی۔اور ہم میں اتنی تو طاقت ہے کہ اس وقت تک کہ ہم سب مر جائیں ان کو آپ تک نہ پہنچنے دیں (ان صحابہ میں حضرت امام حسن بھی شامل تھے) جب مفسدوں نے دیکھا کہ ادھر تو صحابہ کسی طرح ان کو حضرت عثمان کے گھر میں داخل ہونے نہیں دیتے اور ادھر مکہ کے حاجیوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے بلکہ بعض بہادر اپنی سواریوں کو دوڑا کر مدینہ میں پہنچ بھی گئے ہیں۔اور شام و بصرہ کی فوجیں بھی مدینہ کے بالکل قریب پہنچ گئی ہیں بلکہ ایک دن کے فاصلہ پر رہ گئی ہیں تو وہ سخت گھبرائے اور کہا کہ یا آج ان کا کسی طرح فیصلہ کردو۔ورنہ ہلاکت کے لئے تیار ہو جاؤ۔چنانچہ چند آدمیوں نے یہ کام اپنے ذمہ لیا اور بے خبری میں ایک طرف سے کود کر آپ کے قتل کے لئے گھر میں داخل ہوئے۔ان میں محمد بن ابی بکرہ بھی تھے جنہوں نے سب سے آگے بڑھ کر آپ کی داڑھی پکڑی۔اس پر حضرت عثمان نے فرمایا کہ اگر تیرا باپ ہوتا تو ایسا نہ کرتا اور کچھ ایسی پر رعب نگاہوں سے دیکھا کہ ان کا تمام بدن کانپنے لگ گیا اور وہ اسی وقت واپس لوٹ گئے۔باقی آدمیوں نے آپ کو پہلے مارنا شروع کیا۔اس کے بعد تلوار مار کر آپ کو قتل کر دیا۔آپ کی بیوی نے آپ کو بچانا چاہا لیکن ان کا ہاتھ کٹ گیا جس وقت آپ کو قتل کیا گیا اس وقت آپ قرآن پڑھ رہے تھے اور آپ نے ان قاتلوں کو دیکھ کر قرآن کی تلاوت نہیں چھوڑی بلکہ اسی میں مشغول رہے چنانچہ ایک خبیث نے پیر مار کر آپ کے آگے سے قرآن کریم کو پرے پھینک دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شقی دین سے کیا تعلق رکھتے تھے۔آپ کے قتل کرنے کے بعد ایک شور پڑ گیا اور باغیوں نے اعلان کر دیا کہ آپ کے گھر میں جو کچھ ہو لوٹ لو۔چنانچہ آپ کا سب مال و اسباب لوٹ لیا گیا۔لیکن اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ آپ کے گھر کے لوٹنے کے بعد وہ لوگ بیت المال کی طرف گئے اور خزانہ میں جس قدر روپیہ