انوارالعلوم (جلد 3) — Page 184
دم -جلد ۱۸۴ گورنروں کے نام خطوط لکھے کہ حج میں حاضر ہوں۔چنانچہ سب گورنر حاضر ہوئے اور آپ نے ان سے دریافت کیا کہ یہ شور کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شور تو کوئی نہیں بعض شریروں کی شرارت ہے اور آپ نے اکابر صحابہ کو بھیج کر خود دریافت کر لیا ہے کہ اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں بلکہ تمام الزامات جھوٹے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اچھا آئندہ کے لئے کیا مشورہ دیتے ہو۔سعید بن العاص نے کہا کہ یہ ایک خفیہ منصوبہ ہے جو الگ تیار کیا جاتا ہے اور پھر ایسے لوگوں کے کان بھر دیے جاتے ہیں جو حالات سے ناواقف ہیں اور اس طرح ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے تک بات پہنچتی جاتی ہے۔پس علاج یہی ہے کہ اصل شریروں کو تلاش کر کے انہیں سزادی جائے اور قتل کر دیا جائے۔عبد اللہ بن سعد نے مشورہ دیا کہ آپ نرمی کرتے ہیں جب آپ لوگوں کو ان کے حقوق دیتے ہیں تو لوگوں سے ان حقوق کا مطالبہ بھی کریں جو ان کے ذمہ واجب ہیں۔حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ یہ دونوں بزرگ اپنے اپنے علاقہ کے واقف ہوں گے۔میرے علاقہ میں تو کوئی شور ہی نہیں۔وہاں سے آپ نے کبھی کوئی فساد کی خبر نہ سنی ہوگی۔اور جہاں شورش ہے وہاں کے متعلق میرا مشورہ یہی ہے کہ وہاں کے حکام انتظام کی مضبوطی پر زور دیں۔حضرت عمرو بن العاص نے فرمایا کہ آپ بہت نرمی کرتے ہیں اور آپ نے لوگوں کو ایسے حقوق دے دیئے ہیں جو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نہ دیتے تھے۔پس آپ اب لوگوں سے ایسا ہی سلوک کریں جیسا کہ یہ دونوں کرتے تھے۔اور جس طرح نرمی سے کام لیتے ہیں سختی کے موقعہ پر سختی سے بھی کام لیں۔ان سب مشوروں کو سن کر حضرت عثمان نے فرمایا کہ یہ فتنہ مقدر ہے اور مجھے اس کا سب حال معلوم ہے کوئی سختی اس فتنہ کو روک نہیں سکتی۔اگر روکے گی تو نرمی۔پس تم لوگ مسلمانوں کے حقوق پوری طرح ادا کرو۔اور جہاں تک ہو سکے ان کے قصور معاف کرو۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے لوگوں کو نفع پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کی۔پس میرے لئے بشارت ہے اگر میں اسی طرح مرجاؤں اور فتنہ کا باعث نہ بنوں۔لیکن تم لوگ یہ بات یاد رکھو کہ دین کے معاملہ میں نرمی نہ کرنا بلکہ شریعت کے قیام کی طرف پورے زور سے متوجہ رہنا۔یہ کہہ کر سب حکام کو واپس روانہ کر دیا۔حضرت معاویہ جب روانہ ہونے لگے تو عرض کیا۔اے امیر المؤمنین 1 آپ میرے ساتھ شام کو چلے چلیں سب فتنوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔آپ نے جواب دیا کہ معاویہ میں