انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 185

العلوم جلد - ۳ ۱۸۵ انوار خلافت۔رسول اللہ ﷺ کی ہمسائیگی کو کسی چیز کی خاطر بھی نہیں چھوڑ سکتا۔خواہ میرے چمڑے کی رسیاں ہی کیوں نہ بنادی جائیں۔اس پر حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ آپ یہ بات نہیں مانتے تو میں ایک لشکر سپاہیوں کا بھیج دیتا ہوں جو آپ کی اور مدینہ کی حفاظت کریں گے آپ نے فرمایا کہ میں اپنی جان کی حفاظت کے لئے ایک لشکر رکھ کر مسلمانوں کے رزق میں کمی نہیں کرنا چاہتا۔حضرت معاویہ نے عرض کیا کہ امیر المومنین! خدا کی قسم آپ کو شریر لوگ دھوکا سے قتل کر دیں گے یا آپ کے خلاف جنگ کریں گے۔آپ ایسا ضرور کریں لیکن آپ نے یہی جواب دیا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا خدا میرے لئے کافی ہے۔پھر حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو پھر یہ کریں کہ شرارتی لوگوں کو بڑا گھمنڈ بعض اکابر صحابہ پر ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کے بعد وہ کام سنبھال لیں گے اور ان کا نام لے لے کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔آپ ان سب کو مدینہ سے رخصت کر دیں اور دور دراز ملکوں میں پھیلا دیں۔شریروں کی کمریں ٹوٹ جائیں گی۔آپ نے فرمایا کہ جن کو رسول اللہ ﷺ نے جمع کیا تھا میں تو انہیں جلا وطن نہیں کر سکتا۔اس پر حضرت معاویہ رو پڑے اور فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے اس فتنہ کے لئے منشائے الہی ہو چکا ہے۔اور اے امیرالمؤمنین ! شاید یہ میری آپ سے آخری ملاقات ہے۔اس لئے ایک عرض میں آخر میں اور کرتا ہوں کہ اگر آپ اور کچھ بھی نہیں کرتے تو اتنا کریں کہ اعلان کر دیں کہ میرے خون کا بدلہ معاویہ لے گا۔(یعنی بہ صورت آپ کے شہید ہونے کے) آپ نے فرمایا کہ معاویہ تمہاری طبیعت تیز ہے۔میں ڈرتا ہوں کہ تم مسلمانوں پر سختی کرو گے۔اس لئے یہ اعلان بھی نہیں کر سکتا۔اس پر روتے روتے حضرت معاویہ آپ سے جدا ہوئے اور مکان سے نکلتے ہوئے یہ کہتے گئے کہ لوگو ہوشیار رہنا۔اگر اس بوڑھے (یعنی حضرت عثمان) کا خون ہوا تو تم لوگ بھی اپنی سزا سے نہیں بچو گے۔اس واقعہ پر ذرا غور کرو اور دیکھو اس انسان کے جس کی نسبت اس قدر بدیاں مشہور کی جاتی تھیں کیا خیالات تھے اور وہ مسلمانوں کا کتنا خیر خواہ تھا اور ان کی بہتری کے لئے کس قدر متفکر رہتا تھا اور کیوں نہ ہوتا۔آپ وہ تھے کہ جنہیں آنحضرت ﷺ نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیاں بیاہ دی تھیں اور جب دونوں فوت ہو گئیں تو فرمایا تھا کہ اگر میری کوئی تیسری بیٹی ہوتی تو اس کو بھی میں ان سے بیاہ دیتا۔افسوس لوگوں نے اسے خود آکر نہ دیکھا اور اس کے خلاف شور کر کے دین و دنیا سے کھوئے گئے۔