انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 176

لوم جلد - 164 انوار خلافت جتائیں۔اس لئے ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ حَيَّ عَلَى الفلاح کسی کا نماز پڑھنے کے لئے آنا مجھے پر کوئی احسان نہیں ہے اگر کوئی نماز پڑھے گا تو خود ہی فلاح حاصل کرے گا۔تو جو لوگ خدا تعالیٰ کے لئے اپنا مال خرچ کریں گے اس کی رضامندی کے لئے اپنا وطن چھوڑیں گے اس کی رضا کے لئے سفر کی تکلیفیں برداشت کریں گے۔ان کی یہ باتیں ضائع نہیں جائیں گی۔بلکہ وہ اس نے درجہ کو پائیں گے کہ خدا ان کا ہاتھ خدا ان کی زبان خدا ان کے کان اور خدا ان کے پاؤں ہو جائے گا۔اور جو کچھ وہ اس راستہ میں ڈالیں گے وہ بیچ ہو گا جو انہیں کئی گنا ہو کر واپس ملے گا۔پس کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ قادیان آنا خرچ کرتا ہے یہ خرچ کرنا نہیں بلکہ برکتیں حاصل کرنا ہے۔دیکھو کھیتی میں بیج ڈالنے والا بھی پیج کو خرچ کرتا ہے لیکن اس سے گھبراتا نہیں بلکہ امید رکھتا ہے کہ کل مجھے بہت زیادہ ملے گا۔پس تم بھی یہاں آنے جانے کے اخراجات سے نہ گھبراؤ۔خدا تعالیٰ تمہیں اس کے مقابلہ میں بہت بڑھ کر دے گا۔پس تمہارے یہاں آنے میں کوئی چیز روک نہ ہو اور کوئی بات مانع نہ ہو تاکہ تم اپنے دین اور ایمان کو مضبوط کرلو۔اور اپنے میں آنے والوں سے پہلے ان کے لینے کے لئے تیار ہو جاؤ۔اور اگر آنے والے ہزاروں ہوں تو تم بھی ہزاروں ہی ان کے لینے کے لئے موجود رہو۔اس بات کو خوب ذہن نشین کر کے اس پر عمل کرو۔صحابہ کا بڑا تلخ تجربہ ہمارے سامنے موجود ہے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کیسی درد ناک مصیبت ان پر آئی تھی۔اور کس قدر مصائب اور آلام کا وہ نشانہ بنے تھے۔یہ فساد جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے صحابہ سے پیدا نہیں ہوا تھا۔بلکہ ان لوگوں نے کیا تھا جو مدینہ میں نہیں آتے تھے۔اور صحابہ میں شامل نہ تھے۔چنانچہ اس فساد کا بانی مبانی ایک شخص عبداللہ بن سبا تھا۔اس کی ابتدائی زندگی کا حال تو معلوم نہیں ہو تاکہ سیاست کے ساتھ اس کو کیا تعلق تھا لیکن تاریخ میں اس کا ذکر حکیم بن جبلہ کے ساتھ آتا ہے۔حکیم بن جبلہ ایک چور تھا جب فارس پر چڑھائی ہوئی تو یہ بھی صحابہ کے لشکر میں شامل تھا۔لشکر کی واپسی پر یہ راستہ میں غائب ہو گیا۔اور غیر مسلموں پر حملہ کر کے ان کے اموال لوٹ لیا کرتا تھا اور بھیس بدل کر رہتا تھا۔جب غیر مسلم آبادی اور مسلم آبادی نے اس کی شرارتوں کا حال حضرت عثمان کو لکھا تو آپ نے اس کے نظر بند کرنے کا حکم دیا اور بصرہ سے باہر جانے کی اسے ممانعت کر دی گئی اس پر اس نے خفیہ شرارتیں اور منصوبے شروع کئے۔چنانچہ ۳۲ ھ میں اس کے گھر پر عبد اللہ بن سبا مہمان کے طور پر آکر اترا۔اور لوگوں کو بلا کر ان