انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 175

العلوم جلد -- ረላ انوار خلافت - مطہرہی ہے۔پھر مکہ کو دیکھو وہاں نہ حضرت ابراہیم ہیں اور نہ حضرت اسماعیل۔اور نہ ہی ان کے صحابہ موجود ہیں۔مگر چونکہ ان متبرک انسانوں نے اس کی بنیاد رکھی تھی اس لئے باوجود اس وقت ان کے وہاں موجود نہ ہونے کے مکہ ویسا ہی متبرک ہے۔تو جن مقاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کا تعلق ہوتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے متبرک بنا دیے جاتے ہیں۔قادیان بھی ایک ایسی ہی جگہ ہے۔یہاں خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ مبعوث ہوا اور اس نے یہاں ہی اپنی ساری عمر گزاری۔اور اس جگہ سے وہ بہت محبت رکھتا تھا۔چنانچہ اس موقعہ پر جبکہ حضرت مسیح موعود لاہور گئے ہیں۔اور آپ کا وصال ہو گیا ہے۔ایک دن مجھے آپ نے ایک مکان میں بلا کر فرمایا۔محمود دیکھو یہ دھوپ کیسی زردی معلوم ہوتی ہے۔چونکہ مجھے ویسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسی کہ ہر روز دیکھتا تھا۔میں نے کہا نہیں اسی طرح کی ہے جس طرح کی ہر روز ہوا کرتی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں یہاں کی دھوپ کچھ زرد اور مدھم سی ہے۔قادیان کی دھوپ بہت صاف اور عمدہ ہوتی ہے۔چونکہ آپ نے قادیان میں ہی دفن ہونا تھا۔اس لئے آپ نے یہ ایک ایسی بات فرمائی جس سے قادیان سے آپ کی محبت اور الفت کا پتہ لگتا تھا۔کیونکہ جب کہیں سے جدائی ہونے لگتی ہے تو وہاں کی ذرا ذرا چیز سے بھی محبت اور الفت کا خیال آتا ہے۔تو اس جگہ کی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے بھی خدا کے مسیح کو وہ الفت تھی جس کا ثبوت اس واقعہ سے ملتا ہے۔پھر خدا تعالٰی نے تمہیں ایک ملک میں منسلک کر دیا ہے اور تم ایک لڑی میں پروئے گئے ہو۔خدا تعالیٰ نے تمہیں اتفاق و اتحاد کی مضبوط چٹان پر کھڑا کر دیا ہے۔اس لئے یہاں صرف مقام ہی کی برکتیں نہیں بلکہ اتحاد کی برکتیں بھی ہیں۔لیکن میں کہتا ہوں اگر خدانخواستہ اتحاد نہ بھی ہو تو بھی یہاں آنا بہت ضروری ہے۔ورنہ وہ شخص جو یہاں نہیں آتا۔یاد رکھے کہ اس کا ایمان خطرہ میں ہے۔پس وہ لوگ جو پرانے ہیں اور وہ بھی جو نئے ہیں یہاں بار بار آئیں۔میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ ان کے یہاں آنے جانے کے روپے ضائع نہیں جائیں گے بلکہ خدا تعالی انہیں واپس کر دے گا۔اور بڑے نفع کے ساتھ واپس کرے گا کیونکہ خدا تعالی کسی کا حق نہیں مارتا۔اسے بڑی غیرت ہے اور اس معاملہ میں وہ بڑا غیور ہے۔دیکھو اس میں اتنی غیرت ہے کہ جب مؤذن کھڑا ہو کر اذان میں کہتا ہے۔حَتَّى عَلَى الصَّلوة کہ اے لوگو نماز کا وقت ہو گیا ہے نماز کے لئے آؤ۔تو خدا تعالیٰ اتنا برداشت نہیں کر سکتا کہ اس آواز سے لوگ یہ خیال کر کے آئیں کہ چلو خدا کا حکم ہے مسجد میں چلیں۔اور اس طرح ایک طرح کا احسان