انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 172

العلوم جلد ۳۰ ۱۷۲ انوار خلافت شفاف ہو جاؤ۔خدا تعالیٰ نے قادیان کو مرکز بنایا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے جو برکات اور فیوض یہاں نازل ہوتے ہیں اور کسی جگہ نہیں ہیں۔پھر جس کثرت سے حضرت مسیح موعود کے صحابہ یہاں موجود ہیں اور کسی جگہ نہیں ہیں۔اس لئے یہاں کے لوگوں کے ساتھ ملنے سے انسان کا دل جس طرح صیقل ہوتا ہے اور جس طرح اسے تزکیہ نفس حاصل ہوتا ہے۔اس طرح کسی جگہ کے لوگوں کے ساتھ ملنے سے نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے۔اب ہی دیکھ لو ان لوگوں کو چھوڑ کر جو یہاں متکبرانہ آتے اور اسی نشہ میں چلے جاتے تھے باہر کے ایسے ہی لوگ غیر مبالعین ہیں جو یہاں نہیں آتے تھے۔پس اسی وجہ سے ان کے دل زنگ آلود ہوتے گئے۔جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ مردہ دل ہو گئے۔انہوں نے اپنے دل میں ایمان کا پورا تو لگایا تھا مگر اسے پانی نہ دیا۔اس لئے وہ سوکھ گیا۔انہوں نے اپنے دل میں خشیت اللہ کا بیج تو بویا تھا مگر اس کی آبپاشی نہ کی۔اس لئے وہ خشک ہو گیا۔تم ان لوگوں کے نمونہ سے عبرت پکڑو اور بار بار یہاں آؤ۔تاکہ حضرت مسیح موعود کی صحبت یافتہ جماعت کے پاس بیٹھو۔حضرت مسیح موعود کے نشانات کو دیکھو اور اپنے دلوں کو صیقل کرو۔میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگوں نے اس وقت تک کچھ نہیں سیکھایا کچھ نہیں حاصل کیا آپ نے بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ حاصل کیا ہے مگر اس کو قائم اور تازہ رکھنے کے لئے یہاں آؤ اور بار بار آؤ۔بہت لوگ ایسے ہیں جو صرف جلسہ پر آتے ہیں اور پھر نہیں آتے۔میں کہتا ہوں انہیں اس طرح آنے سے کیا فائدہ ہوا۔یہ فائدہ تو ہوا کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا حکم مانا اور اس حکم کی قدر کی۔مگر ایسے موقعہ پر انہیں کچھ سکھانے اور پڑھانے کا کہاں موقعہ مل سکتا ہے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جلسہ پر آتے اور پھر چلے جاتے ہیں ان کی بعض حرکات خلاف شرع ہوتی ہیں۔لیکن ایسے وقت میں نہ کچھ بتایا جا سکتا ہے اور نہ بتانے کا کوئی موقعہ ملتا ہے۔اور پھر وہ جو یہاں نہیں آتے ان کے لئے بار بار دعا بھی نہیں ہو سکتی اور کس طرح ہو۔میں تو دیکھتا ہوں۔ماں بھی اپنے اس بچہ کو جو ہر وقت اس سے دور رہے بھول جاتی ہے اور جو نزدیک رہے اسے یاد رکھتی ہے۔اسی طرح خدا تعالی بھی ان لوگوں کی کو بھلا دیتا ہے جو اس کو یاد نہیں رکھتے۔قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا فروں کو کہتا ہے کہ تم میرے ملنے سے نا امید ہو گئے پس میں نے بھی تم کو ترک کر دیا۔تو وہ شخص جو بار بار مجھے ملتا اور اپنے آپ کو شناخت کراتا ہے وہ اپنے لئے دعا کے لئے بھی یاد دلاتا ہے۔بیشک میں تمام جماعت