انوارالعلوم (جلد 3) — Page 171
الدار العلوم جلد ۳۰ 121 لئے ضروری ہے کہ اپنے اندر اخلاص اور خشیت پیدا کرو اور علم دین سیکھو اور اپنے دلوں کو صیقل کرو تاکہ جو لوگ تم میں آئیں ان کو تعلیم دے سکو اور ان میں خشیت اللہ پیدا کر سکو۔صحابہ کے وقت جو فتنہ ہوا تھا وہ اسی بات کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ مدینہ میں نہ آتے تھے۔اور انہوں نے قرآن شریف نہ پڑھا اور نہ سمجھا تھا۔اس لئے ان میں خشیت اللہ پیدا نہ ہوئی۔جس کی کا انجام یہ ہوا کہ انہوں نے صحابہ کو قتل کر کے اپنے پاؤں تلے روندا ان کی لاشوں کی بے عزتی کی۔اور انہیں مکانوں میں بند کر دیا۔اگر وہ مدینہ آتے اور اہل مدینہ سے تعلق رکھتے۔تو کبھی یہ فتنہ نہ ہوتا۔اور اگر ہوتا تو ایسی خطرناک صورت نہ اختیار کرتا۔اس فتنہ میں سارے مدینہ سے صرف تین آدمی ایسے نکلے۔جن کو مفسد اور شریر لوگ اپنے ساتھ ملا سکے۔اور ان کو بھی دھوکا اور فریب سے۔وہ ایک عمار بن یا سر تھے۔دوسرے محمد بن ابی بکر اور تیسرے ایک انصاری تھے۔چونکہ تم لوگ بھی صحابہ کے مشابہ ہو اس لئے میں چاہتا ہوں کہ تاریخ سے بیان کروں کہ کس طرح مسلمان تباہ ہوئے۔اور کون سے اسباب ان کی ہلاکت کا باعث بنے پس تم ہوشیار ہو جاؤ اور جو لوگ تم میں نئے آئیں ان کے لئے تعلیم کا بندوبست کرو۔حضرت عثمان ان کے وقت جو فتنہ اٹھا تھا۔وہ صحابہ سے نہیں اٹھا تھا۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے اٹھایا تھا ان کو دھوکا لگا ہے۔اس میں شک نہیں کہ حضرت علی کے مقابلہ میں بہت سے صحابہ تھے اور معاویہ کے مقابلہ میں بھی لیکن میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ کے بانی صحابہ نہیں تھے بلکہ وہی لوگ تھے جو بعد میں آئے اور جنہیں آنحضرت ﷺ کی صحبت نصیب نہ ہوئی اور آپ کے پاس نہ بیٹھے۔پس میں آپ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں اور فتنہ سے بچنے کا یہ طریق بتاتا ہوں کہ کثرت سے قادیان آؤ۔اور بار بار آؤ تاکہ تمہارے ایمان تازہ رہیں۔اور تمہاری خشیت اللہ بڑھتی رہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے تھے میں زمانہ طالب علمی میں ایک شخص کے پاس ملنے کے لئے جایا کرتا تھا۔کچھ عرصہ نہ گیا پھر جو گیا تو کہنے لگے کیا تم کبھی قصائی کی دکان پر نہیں گئے میں نے کہا قصائی کی دکان تو میرے راستہ میں پڑتی ہے ہر روز میں اس کے سامنے سے گذرتا ہوں۔انہوں نے کہا کیا تم نے کبھی قصائی کو نہیں دیکھا کہ وہ کچھ دیر گوشت کاٹ کر ایک چھری کو دوسری چھری پر پھیر لیتا ہے وہ ایسا اس لئے کرتا ہے کہ تا دونوں چھریاں تیز ہو جائیں۔اسی طرح جب ایک نیک آدمی دوسرے نیک آدمی سے ملتا ہے تو ان پر جو کوئی بد اثر ہوتا ہے وہ دور ہو جاتا ہے۔پس تم لوگ بھی کثرت سے یہاں آؤ تاکہ نیک انسانوں سے ملو۔اور صاف و