انوارالعلوم (جلد 3) — Page xvii
انوار العلوم جلد ہدایتوں کو کھولتی اور شرح کرتی ہے۔مختلف مذاہب اپنے اندر مختلف صداقتیں رکھتے ہیں۔لیکن کوئی ایسا مذ ہب نہیں جو یکجائی طور پر ان تمام خوبیوں کا جامع ہو جو اسلام کے اندر پائی جاتی ہیں۔پس آج روئے زمین پر سوائے اسلام کے اور کوئی ایسا مذ ہب نہیں جو انسان کا تعلق خدا تعالٰی سے پیدا کرا سکے۔اور اب جبکہ اللہ تعالی نے کامل شریعت بھیج دی ہے تو اس نے اپنی رضا کے اظہار کے لئے اسلام کے سوا اور تمام دروازے بند کر دیئے ہیں۔اور کوئی شخص اب خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک اسلام کا جوا اپنی گردن پر نہ اٹھائے"۔مذہب کی دوسری غرض اپنے متبعین کو شفقت علی خلق اللہ کی تعلیم دیتا ہے۔اور اس کے تین حصے ہیں۔(۱) اپنے نفس سے تعلق۔(۲) انسان کا معاملہ دوسرے انسانوں سے (۳) انسان کا معاملہ حیوانوں سے۔ان تمام معاملات میں کسی مذہب کی بھی تعلیم اس قدر جامع اور فطرت کے مطابق نہیں ہے جس قدر اسلام کی ہے کہ ان معاملات میں تمام چھوٹے بڑے مسائل کا تذکرہ بڑی تفصیل سے کیا ہے۔(۷) نصائح مبلغین حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۲ مارچ ۱۹۱۷ء کو مبلغین کو نصائح کرتے ہوئے ایک پر حکمت لیکچر دیا جو بعد میں "نصائح مبلغین " کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔اس اہم خطاب میں آپ نے مبلغین کو بیش قیمت نصائح کرتے ہوئے فرمایا کہ تبلیغ کی کامیابی کے لئے سب سے ضروری چیز اپنے نفس کا تزکیہ ہے۔نماز تہجد کی عادت ، قرآن مجید کا مطالعہ ، ذکر الہی میں باقاعدگی اپنی ذاتی لائبریری کا قیام ، سوال سے اجتناب، خوشامد سے نفرت اور خدا تعالی پر غیر معمولی تو کل انسان کو بہترین مبلغ بناتا ہے۔کامیاب مبلغ بننے کے لئے ضروری ہے کہ کثرت سے لوگوں سے تعلقات قائم کئے جائیں کسی بھی بدی کو دیکھ کر جرات سے اس کی تردید کرنی چاہئے۔اپنے کام میں مستقل مزاجی اور مسائل میں غور و فکر کامیابی کا زینہ بن جاتے ہیں۔