انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 119

م جلد ۳۰ 119 انوار خلافت رہام سے مرکب ہے اور اسکے معنی ہیں بلندی کا باپ۔اور حضرت موسیٰ کا نام مو اور شی سے مرکب ہے۔مو (عربی ماء بگڑی ہوئی عربی مویہ) کہتے ہیں پانی کو۔اور شی ( عربی شی ) بمعنی چیز۔یعنی پانی کی چیز ہے۔چونکہ حضرت موسیٰ کو پانی میں ڈالا گیا تھا۔اس لئے آپ کا یہ نام ہوا۔پھر یسوع بھی مرکب نام ہے۔غرض بہت سے نبیوں کے نام مرکب ہیں۔لیکن وہ نادان بوجہ عربی اور عبرانی کا علم نہ رکھنے کے اس بات کو نہیں سمجھا۔اس لئے کہتا ہے کہ تمام نبیوں کے نام مفرد ہیں۔پھر قرآن کریم پر غور کرنے سے ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ اس میں نبیوں کے مخالفوں کے نام بھی مفرد آئے ہیں (کیونکہ ابو لہب صفت ہے نہ کہ نام ) اب اگر کوئی یہ کہہ دے کہ دنیا میں جس کا نام مرکب ہو وہ شریر نہیں ہو سکتا تو یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے۔لیکن کیا کیا جائے۔حدیث میں آیا ہے کہ امت محمدیہ پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اس کے اندر سے علم اٹھ جائے گا اور جاہل لوگ عالم کہلائیں گے جو لوگوں کو اپنی بے علمی کی وجہ سے گمراہ کریں گے۔پس چونکہ مسلمانوں پر یہ زمانہ آگیا ہے اور وہ علم و جہالت میں فرق نہیں کر سکتے۔اس لئے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کو مخالفین اسلام کی نظروں میں ذلیل کرنے والی ہوں اور صداقت کے ایسے معیار بناتے ہیں جنہیں کوئی رانا انسان قبول نہیں کر سکتا۔اور جو خدا تعالیٰ کی سنت سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں۔کیا ایک مسیحی اس معیار کو سن کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ رسول کریم ﷺ سے پہلے جس قدر نبی گزرے ہیں کسی کا نام محمد و زن پر نہیں ہوا۔اس لئے آپ نبی نہیں ہیں اور کیا ایسا دعویٰ کرنے والا مجنون نہیں کہلائے گا۔پھر حضرت مسیح موعود کی نبوت پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جس کے نام کا پہلے کوئی آدمی نہ گزرا ہو۔چونکہ آپ کا نام غلام احمد تھا۔اور اس نام کے آپ سے پہلے بہت سے لوگ ہو گزرے ہیں۔اس لئے آپ نبی نہیں ہو سکتے۔گویا ان لوگوں کے نزدیک چونکہ آنحضرت ا سے پہلے کوئی شخص آپ کا ہم نام نہیں گزرا۔اس لئے آپ نبی ہیں اور اگر غلط ثابت ہو جائے تو پھر آپ نبی نہیں۔(نعوذ باللہ ) اسی طرح حضرت مسیح سے پہلے چونکہ یسوع نام کا جو آپ کا نام تھا کوئی شخص نہیں گزرا اس لئے آپ نبی ہیں۔اور اگر یہ غلط ثابت ہو جائے تو پھر آپ نبی نہیں۔اس بات کا اگر ان سے ثبوت پوچھیں کہ تم نے یہ دلیل کہاں سے لی ہے تو کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں جو حضرت یحی کی نسبت لکھا ہے کہ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيّاً - مریم : ( اول تو جو معنی کر کے وہ استدلال کرتے ہیں وہ معنی ہی ہمارے نزدیک