انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 106

1۔4 انوار خلافت جاتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں رسول کریم ﷺ پر چسپاں نہیں ہو تیں کیونکہ آپ کے وقت میں سچا دین تو کوئی تھا ہی نہیں سوائے اس دین کے جس پر آپ چل رہے تھے اور کفار کے نزدیک سچے دین کا نام اسلام تھا نہیں کہ ان پر حجت قائم کرنے کے لئے یہ کہا جاتا کہ حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔باقی رہا یہ کہ کسی دین کا نام اسلام ہو۔سو یہ بات سوائے اس دین کے جو رسول کریم ﷺ لائے اور کسی دین میں نہیں پائی جاتی اور رسول کریم کالایا ہوا دین ہی وہ دین ہے جس کا نام اسلام رکھا گیا ہے۔پس یہ شرط کہ اگر وہ جھوٹا ہے اور لوگ اس کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں رسول کریم میں نہیں پائی جاتی کیونکہ لوگ آپ کو اسلام کی طرف نہیں بلاتے تھے بلکہ کوئی لات و منات کے دین کی طرف آپ کو بلاتا تھا۔کوئی یسوعی مذہب کی طرف کوئی یہودی دین کی طرف کوئی زرتشتی دین کی طرف اور ایسا کوئی بھی نہ تھا جو آپ کو اسلام کی طرف بلاتا ہو بلکہ آپ لوگوں کو اسلام نام دین کی طرف بلاتے تھے پس آپ دا عِى إِلَى الْإِسْلَامِ تھے نہ کہ بد على إِلَى الْإِسْلَامِ اور دین اسلام کی طرف کوئی ایسا ہی شخص بلایا جا سکتا ہے جو ایسے وقت میں آئے کہ اس وقت دنیا میں کوئی مذہب اسلام نامی ہو۔اور اس بات میں کیا شک ہے کہ ایسا شخص رسول کریم ﷺ کے بعد ہی ہو سکتا ہے کیونکہ آپ ہی اسلام نام مذہب دنیا کی طرف لائے تھے۔غرض يُدعى الى الاسلام کی شرط ظاہر کر رہی ہے کہ یہ شخص رسول کریم اے کے بعد آئے گا اور اس وقت کے مسلمان اسے کہیں گے کہ میاں تو کافر کیوں بنتا ہے اپنا دعوئی چھوڑ اور اسلام سے منہ نہ موڑ۔اس کے جواب میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اگر واقعہ میں یہ جھوٹا ہے اور تم سچے ہو یہ کافر ہے اور تم مسلم اور تم اس کو اسلام کی طرف بلاتے ہو اور یہ کفر کی طرف جاتا ہے اور خدا پر جھوٹ باندھتا ہے تو اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے اس کو تو ہلاک ہونا چاہئے کیونکہ خدا تو ظالموں کو بھی ہدایت نہیں کرتا۔اور یہ اظلم ہے پس چونکہ یہ ہلاک نہیں ہو تا بلکہ ہر میدان میں ہدایت پاتا ہے اس لئے یہ جھوٹا کیونکر ہو سکتا ہے اور کیونکر ممکن ہے کہ تم اسلام پر ہو کر پھر ذلیل ہوتے ہو۔غرض اس آیت میں دشمنان احمد رسول پر ایک زبر دست حجت قائم کی گئی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ کی آیت پر زور بھی بہت دیا کرتے تھے۔بعض لوگ اس جگہ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یدعی إِلَى الْإِسْلَام رسول کی نسبت نہیں بلکہ اس کے دشمنوں کی نسبت ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا