انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 555

دم جلد ۳۰ ۵۵۵ زندہ خدا کے زیر دست نشان بہت کم موتیں اس کے ذریعہ سے ہوئی تھیں۔اس وقت آپ نے دوبارہ ایک مستقل اشتہار کے ذریعہ (جس کا عنوان ہی ” طاعون " رکھا گیا تھا اور جو 4 فروری ۱۸۹۸ء کو لکھا گیا اور شائع کیا گیا) یہ رویا شائع کی کہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ تمام پنجاب میں پودے لگائے گئے ہیں اور وہ اسی مرض کے ہیں۔جس کے بعد تمام پنجاب میں سخت طاعون پھوٹ پڑا۔اسی طرح اس کے متعلق یہ الہام ہوا کہ " موتا موتی لگ رہی ہے۔(دیکھو اشتہار الوصیت اشاعت ۲۷۔فروری ۱۹۰۵ء اخبار الحکم جلد نمبرے صفحہ 11) اسی طرح آپ نے چار اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے متعلق قبل از وقت ان الفاظ میں خبر دی تھی کہ " زلزلہ کا دھکا " (دسمبر ۱۹۰۳ء) عَفَتِ الدِّيَا رُ مُحِلُّهَا وَمُقَامَها - یعنی ایک ایسا سخت زلزلہ آئے گا کہ وہ عمارتوں کو بیخ دین سے اکھاڑ کر پھینک دے گا اور عارضی اور مستقل عمارتیں اپنی بنیاد سے اکھڑ کر گر جائیں گی۔چنانچہ یہ الہام زلزلہ کے آنے سے قریباً ایک سال پہلے اخبار الحکم کی اشاعت ۳۱۔مئی ۱۹۰۴ء اور البدر کی اشاعت ۲۴ مئی ریکم جون ۱۹۰۴ء میں شائع ہو چکا تھا چنانچہ اس الہام کے بعد چار اپریل کو جو زلزلہ وادی کانگڑہ میں آیا۔اس میں ۳۰ ہزار آدمی ہلاک ہوئے۔اور جو زخمی ہوئے ان کی تعداد اس سے بہت زیادہ تھی۔گاؤں کے گاؤں اس طرح مٹ گئے کہ ان کا نام و نشان نہ رہا۔تمام پنجاب ایک سرے سے دو سرے تک ہل گیا۔اور سینکڑوں میل پر جو شہر تھے ان میں بھی مال و جان کا نقصان ہوا۔اور پنجاب کے باہر بھی بنگال تک اس زلزلہ کے دھکے محسوس ہوئے۔غرض یہ زلزلہ ہندوستان کی تاریخ میں بالکل نرالا تھا۔تقسیم بنگالہ کے موقعہ پر جب کہ تمام عہدہ داران حکومت اس بات پر مصر تھے کہ یہ حکم بدلا نہیں جائے گا۔اور وزرائے انگلستان بار بار اس کے اٹل ہونے کا اعلان کر رہے تھے۔آپ نے ۱۹۰۶ ء میں رسالہ ریویو آف ریلیجینز انگریزی و اردو جلد ۵ نمبر ۲ پرچہ فروری ۱۹۰۶ء میں اور اخبارات بدر الحکم و انڈین مرد کلکتہ میں اپنا یہ الہام شائع کیا۔" پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا ، اب ان کی دلجوئی ہو گی۔" ( تذکرہ صفحہ ۵۹۶) چنانچہ پورے چھ سال بعد بار جود حکام وقت کے بار بار کے انکار کے بادشاہ جارج پنجم کی تاج پوشی کے وقت اس حکم کو منسوخ کیا گیا۔اور یہ نشان زبر دست طور پر پورا ہوا۔امریکہ کے ایک شخص ڈوئی نامی نے جو شکاگو کا رہنے والا اور ایک بڑے فرقہ کا بانی تھا اور