انوارالعلوم (جلد 3) — Page 556
دم جلد ۳۰ ۵۵۶ زندہ خدا کے زبر دست نشان الیاس ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا جب ایک موقعہ پر اسلام کے خلاف بہت زہر اگلا تو آپ نے اس کے خلاف ایک اشتہار شائع کیا۔اور اس کے متعلق خبر دی کہ وہ سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔چنانچہ اس کے بعد اس کی بیوی اور اس کا بیٹا اس کے خلاف ہو گئے اور وہ حرام زادہ ثابت کیا گیا اور اس کے مریدوں نے اس کو چھوڑ دیا۔آخر فالج میں مبتلا ہوا اور دیوانہ ہو کر مرا۔اس قسم کے نشانات تو بہت سے ہیں۔لیکن اس شخص کا اس لئے خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ وہ یورپ و امریکہ میں خاص شہرت رکھتا تھا اور دونوں براعظموں میں اس کے مرید پھیلے ہوئے تھے۔ترکی حکومت کی بربادی اور سلطان عبد الحمید خاں کے اپنے امراء کے ہاتھوں دکھ پانے کے متعلق بھی آپ نے قبل از وقت ۲۴۔مئی ۱۸۹۷ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ خبر دی تھی جو نہایت واضح طور پر پوری ہوئی۔ایرانی حکومت کے انقلاب کے متعلق بھی آپ نے اپنا یہ الہام ۱۵ جنوری ۱۹۰۶ ء کو شائع کیا که تزلزل در ایوان کسری فتاد۔شاہ ایران کا محل ہلایا گیا ہے (دیکھو ریویو آف ریلیج اُردو بابت جنوری ۱۹۰۶ء) چنانچہ تین سال کے بعد یہ الہام ایرانی بغاوت اور شاہ ایران کے بھاگ جانے سے پورا ہوا۔بلقان کی جنگ کی نسبت بھی آپ کے الہامات میں پہلے سے خبر دی گئی تھی۔چنانچہ ۱۹۰۴ء میں یہ الہام آپ کا ریویو آف ریلیجنز اُردو بابت جنوری ۱۹۰۴ء میں شائع کیا گیا کہ غُلِبَتِ الروم فِى أَدْنَى الأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ۔ترک اپنے پاس کے علاقہ میں مغلوب ہوں گے اور اپنے مغلوب ہونے کے بعد جلد پھر غالب ہو جائیں گے۔چنانچہ قسطنطنیہ جو ترکوں کا دارالخلافہ ہے اس کے پاس ہی بلقانی طاقتوں سے ترکوں کو شکست ہوئی اور فوراً ہی ان کی آپس کی خانہ جنگی کے باعث ترکوں کو ایڈریا نوپل کی فتح عظیم حاصل ہوئی۔جس سے پیشگوئی کے دونوں پہلو خارق عادت طور پر پورے ہوئے۔موجودہ جنگ کے متعلق بھی آپ نے ان الفاظ میں یہ پیشگوئی ۱۹۰۷ء میں شائع فرمائی کہ۔اک نشان ہے آنیوالا آج سے کچھ دن کے بعد جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شهر و مرغزار آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار