انوارالعلوم (جلد 3) — Page 18
دم جلد - F۔١٨ چند غلط فہمیوں کا ازالہ لے مولوی صاحب اس حدیث کو پیش کر کے جس میں مسلمانوں کے یہودیوں اور عیسائیوں کے مشابہ ہو جانے کی پیشگوئی ہے۔اشارہ ہمیں ضالین بھی قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ یہودی تو غیر احمدی ہیں منال احمدیوں میں ہونے چاہئیں۔لیکن یاد رہے کہ حضرت مسیح موعود نے عیسائیوں کے مشابہ ہونے والا گروہ بھی ان لوگوں کو قرار دیا ہے جو اپنی رفتار گفتار اور لباس میں عیسائیوں کے مشابہ ہو رہے ہیں اور غیر احمدیوں کو ہی دو گروہوں میں تقسیم کیا ہے اس شخص کی بات کو چھوڑ کر جو مغضوب علیم اور ضالین میں اصلاح کے لئے آیا تھا ہم آپ کی بات کس طرح مان لیں۔بعض شخص اپنی نادانی سے یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ لکل ان تتطلع کے ماتحت نہی کے جو معنی کر لئے جائیں وہ ماننے کے قابل نہیں بلکہ ماننے کے قابل تو شریعت اسلام کی اصطلاح ہوگی وہ نادان اتنا نہیں خیال کرتے کہ نبی خدا بھیجتا ہے یا کوئی اور۔پس نبی وہ ہو گا جو خدائے تعالی کی اصطلاح کے مطابق نبی ہو نہ وہ جسے لوگ نبی کہہ دیں اور پھر کیا اسلام خدائے تعالی کے بتائے ہوئے مذہب کے سوا کسی اور شے کا نام ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ کی اصطلاح کچھ اور ہو او ر اسلام کی اصطلاح کچھ اور ؟ مرزا محمود احمد۔میں بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس بات کا علم کس طرح ہو کہ کسی کو اس حد تک کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی ہے یا نہیں جو نبی ہونے کے لئے ضروری ہے۔سو انہیں یاد رہے کہ نبی خدابنا تا ہے نہ کہ انسان۔جب کسی کے الہامات اس کثرت کو پہنچ جاتے ہیں جس پر وہ کسی کو نبی بناتا ہے تو وہ خود اس کا نام نبی رکھتا ہے ہمیں اس فکر کی کیا ضرورت ہے کہ کثرت سے کیا مراد ہے قلت کو ہم سمجھ سکتے ہیں اور کثرت کا فیصلہ خود اللہ تعالی کرتا ہے وہ خود ہی نبی کے نام رکھتا ہے اور خود ہی فیصلہ کرتا ہے کہ اب کوئی شخص نبی کہلا سکتا ہے یا نہیں۔مرزا محمود احمد