انوارالعلوم (جلد 3) — Page 397
رالعلوم جلد ۳۰ ۳۹۷ پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید کچھ لوگ مجھے تحفہ دیتے ہیں اس میں سے اپنے نفس پر بھی استعمال کرتا ہوں اور میں اس سے شرمندہ نہیں کیونکہ میرے آقا حضرت محمد اللہ بھی تحائف قبول کرتے اور خیبر کی فتح سے پہلے آپ کا گزارہ زیادہ تر انہی تحائف پر تھا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود بھی ہدایا کو قبول کرتے تھے لیکن اس سے زیادہ میں تمہارے اموال پر ہرگز تصرف نہیں کرتا۔جس غرض کے لئے کوئی شخص مجھے روپیہ دیتا ہے اس کے لئے جمع کروا دیتا ہوں اور اگر میری مرضی پر چھوڑ دے تو میں اس روپیہ کو اکثر تو اشاعت و صدر انجمن میں ا۔اور ۲- کی نسبت سے تقسیم کر دیتا ہوں ورنہ جس مد میں زیادہ ضرورت ہو وہاں جمع کروا دیتا ہوں اور بعض لوگ جو مجھے اس لئے روپیہ بھیجتے ہیں کہ میں خود جہاں چاہوں اس کو خرچ کر دوں تو ان روپوں کو مناسب ضروریات پر خرچ کر دیتا ہوں لیکن سوائے اس روپیہ کے جو مجھے میری ذات کے لئے لوگ دیتے ہیں ہرگز ایک پیسہ بھی اپنے استعمال میں نہیں لاتا اور جو شخص مجھے اس قابل خیال کرتا ہے اس پر حرام ہے کہ کبھی ایک پیسہ بھی وہ مجھے دے۔میں حریص نہیں خدا تعالٰی نے مجھے بہت وسیع دل دیا ہے پھر وہ خود میری ضروریات کو پورا کرتا ہے بارہا ایسا ہوتا ہے کہ سخت تنگی کے وقت جب مجھے نظر نہیں آتا کہ میں خرچ کہاں سے دوں اور قرض لینے کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ فوراً کسی ایسے ذریعہ سے جو میرے واہمہ میں بھی نہیں ہوتا مجھے رزق بھیج دیتا ہے۔بعض دفعہ ہندوؤں اور سکھوں سے روپیہ بھجوا دیتا ہے بعض دفعہ رویا کے ذریعہ کسی کو تحریک کر دیتا ہے چنانچہ ابھی چند ماہ ہی ہوئے ہیں کہ میرے کوٹ کے پھٹ جانے پر میری بیوی نے کہا کہ کوٹ پھٹ گیا ہے میں نے کہا دیکھو تو سہی خدا تعالی خود بند دست کرے گا اس کے چند دن بعد خان بہادر شیخ محمد حسین صاحب بی اے حج سمال کا زکورٹ کانپور کا ایک خط اور کوٹ کا کپڑا ملا جس میں انہوں نے تحریر فرمایا کہ ایک خواب کی بناء پر وہ یہ کوٹ کا کپڑا میرے لئے بھیجتے ہیں وہ ایک معزز عہدہ دار اور راستباز انسان ہیں ان سے دریافت کیا جا سکتا ہے کہ آیا یہ واقعہ درست ہے یا نہیں۔روپیہ کے متعلق تو ایسے بہت سے تجارب ہوئے ہیں کہ ضرورت کے وقت بعض لوگوں کو رویا ہوئی اور انہوں نے روپیہ بھیج دیا قلبی تصرفات کی مثالیں اس سے بھی زیادہ ہیں پس جبکہ خداتعالی خود میرا کفیل اور مجھ سے زیادہ میری فکر رکھتا ہے تو مجھے کسی کے روپیہ کی کیا لالچ ہو سکتی ہے۔لالچ اور حرص تو اسے ہوتی ہے جسے خطرہ ہوتا ہے کہ مجھے ضرورت کے وقت روپیہ کہاں سے ملے گا جبکہ میرا سہارا خدا تعالیٰ ہے او وہ میرے رزق کا زمہ دار ہے اور غیر معمولی ذرائع سے