انوارالعلوم (جلد 3) — Page 344
۳۴۴ سیرت مسیح موعود پنشن پاتے تھے۔اور نیز ایک رقم کثیر انعام کی پاتے تھے۔جو ان کی حیات سے مشروط تھی۔اس لئے یہ خیال گذرا کہ ان کی وفات کے بعد کیا ہو گا۔اور دل میں خوف پیدا ہوا۔کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے۔اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گزر گیا تب اسی وقت غنودگی ہو کر یہ دوسرا الہام ہوا۔اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَه یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔اس الہام الہی کیساتھ ایسا دل قوی ہو گیا کہ جیسے ایک سخت درد ناک زخم کسی مرہم سے ایک دم میں اچھا ہو جاتا ہے۔۔جب مجھ کو الہام ہوا کہ اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ تو میں نے اسی وقت سے سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا۔تب میں نے ایک ہندو کھتری ملاوائل نام کو جو ساکن قادیان ہے اور ابھی تک زندہ ہے (انکی ۱۹۵ء میں وفات ہوئی۔مرتب کنندہ ) وہ الہام لکھ کر دیا اور سارا قصہ اسکو سنایا اور اس کو امر تسر بھیجا که تا حکیم مولوی محمد شریف کلانوری کی معرفت اسکو کسی نگینہ میں کھدوا کر اور مہر بنوا کر لے آوے۔اور میں نے اس ہندو کو اس کام کے لئے محض اس غرض سے اختیار کیا کہ وہ اس عظیم الشان پیش گوئی کا گواہ ہو جاوے۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف کے ذریعہ سے وہ انگشتری بصرف مبلغ پانچ روپیہ تیار ہو کر میرے پاس پہنچ گئی۔جو اب تک میرے پاس موجود ہے۔جس کا نشان یہ ہے" (حقیقة الوحی- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۲۰۰۲۱۹ ) غرض جس دن حضرت صاحب کے والد صاحب نے وفات پائی تھی۔اس دن مغرب سے چند گھنٹے پہلے ان کی وفات کی اطلاع آپ کو دی گئی۔اور بعد میں خدا تعالیٰ نے تسلی فرما دی کہ گھبراؤ نہیں۔اللہ تعالیٰ خود ہی تمہارا انتظام فرما دے گا۔جس دن یہ الہامات ہوئے اسی دن شام کو بعد مغرب آپ کے والد صاحب فوت ہو گئے اور آپ کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔آپ کے والد صاحب کی جائداد کچھ مکانات اور بعض مشکلات پر آپ کا استقلال دکانات بٹالہ امر تسر اور گورداسپور میں تھی۔اور کچھ مکانات اور دکانیں اور زمین قادیان میں تھی۔چونکہ آپ دو بھائی تھے۔اس لئے شرعاء قانونا وہ جائداد آپ دونوں کے حصہ میں آتی تھی۔چونکہ آپ کا حصہ آپ کے گزارہ کے لئے کافی تھا لیکن آپ نے اپنے بڑے بھائی سے وہ جائداد تقسیم نہیں کرائی اور جو کچھ وہ دیتے اس