انوارالعلوم (جلد 3) — Page 212
انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۱۲ کوئی تردد نہ ہو اور سب ایک دین پر قائم ہو جائیں۔چنانچہ یہ چاروں پنچ آئے مگر چاروں الگ الگ ہو کر نہیں بلکہ ایک ہی بن کر۔اب ہندوؤں پر یہ حجت پوری ہوئی کہ تمہارے لئے حضرت کرشن کا فیصلہ ماننا ضروری ہے۔پس جبکہ کرشن آگیا ہے تو اس کے فیصلہ کو مان لو۔بدھوں پر یہ حجت ہوئی کہ ان کا قائم مقام حضرت بدھ آگیا۔مسیحیوں پر یہ حجت ہوئی کہ ان کا قرار دادہ مسیح آگیا۔اور مسلمانوں پر یہ حجت ہوئی کہ ان کا منتخب کردہ پنچ محمد ال آگیا۔خدا تعالیٰ نے تو سب مذاہب کو ایک بنانے کے لئے یہ تدبیر کی تھی۔لیکن غلطی اور نا سمجھی سے ہندوؤں نے سمجھا کہ کرشن آکر ہمارے ہی مذہب کو پھیلائیں گے اور باقی کو نیست و نابود کر دیں گے۔یہی بات بدھوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں نے بھی اپنے اپنے آنے والے نبیوں کے متعلق خیال کرلی۔انہوں نے تو صلح کرانے کے لئے اور لڑائی جھگڑوں کو دور کرنے کے لئے آنا تھا لیکن سمجھا یہ گیا کہ وہ اگر کشت و خون کا بازار گرم کریں گے۔یہ ایک ایسی غلط فہمی ہر ایک تو مذہب والوں کے دلوں میں بیٹھ گئی کہ جس کا اس وقت تک دور ہونا مشکل تھا جب تک کہ وہ انسان نہ آتا جس کے وہ منتظر بیٹھے تھے۔چنانچہ وہ آیا اور اس نے آکر ثابت کر دیا کہ جو جو خیالات تمہارے دلوں میں ہیں وہ غلط اور بیہودہ ہیں۔میں ہی وہ ہوں جو تمہارے سب کے لئے آنے والا تھا تا کہ تم کو ایک کروں اور ایک مذہب پر قائم کر کے خدا تعالیٰ کے ایک ہی دین کو تمام دینوں پر غالب کروں۔چنانچہ اس نے یہ سب کچھ اس زمانہ میں کر کے دکھا دیا۔اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی ایسا زمانہ ہے جس میں یہ مقصد پورا ہو سکتا ہے اور اسی زمانہ میں کسی ایسے انسان کو آنا چاہئے تھا جو ایک دین پر سب کو قائم کرتا۔اور پھر وہ سب علامتیں بھی اس زمانہ میں پوری ہو رہی ہیں جو حضرت کرشن ، حضرت بدھ ، حضرت مسیح اور مہدی کی آمد پر پوری ہوئی تھیں۔پس جب کہ زمانہ کے حالات اور واقعات پکار پکار کر بتا رہے ہیں کہ ہر ایک مذہب کے آنے والے کا یہی وقت ہے۔اور پھر جبکہ جو علامتیں مقرر کی گئی تھیں وہ بھی پوری ہو گئی ہیں تو آنے والوں کو بھی آجانا چاہئے۔لیکن ان سب کی طرف سے ایک ہی مدعی کھڑا ہوا ہے جس نے کہا ہے کہ میں کرشن ہوں میں بوجھ ہوں میں مسیح ہوں اور میں مہدی ہوں۔پس وہی ان تمام جھگڑوں کا فیصلہ کرنے والا ٹھرا۔اور اگر پہلے نبیوں کو سچا سمجھا جائے تو اسے قبول کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔اب اگر کوئی کہے کہ اس ایک کے آنے سے تو ایک فرقہ دنیا میں زائد ہو گیا اور بجائے پہلے