انوارالعلوم (جلد 3) — Page 126
انوار العلوم جلد۔۱۲۶۔آپ سے پہلے اپنے بندوں پر کیا کرتا تھا۔آپ سے پہلے تو نبی پر نبی بھیجا تھا۔جو اس کی طرف گر تا اسے اٹھاتا تھا۔جو اس کی طرف جھکتا اسے پکڑتا تھا۔جو اس کے آگے گڑ گڑاتا اسے چپ کراتا تھا۔اور جو اس کی پوری پوری اطاعت اور فرمانبرداری کرتا اسے نبی بناتا تھا۔لیکن (نعوذ باللہ ) اب ایسا بخیل ہو گیا ہے کہ خواہ کوئی کتنا ہی روئے چلائے اور کتنے ہی اعمال صالحہ کرے اس نے کہہ دیا ہے کہ اب میں کسی کو مونہہ نہیں لگاؤں گا اور اگر لگاؤں گا تو ادنی درجہ پر رکھوں گا پورا نبی کبھی نہیں بناؤں گا۔اب بتاؤ آنحضرت ا کی یہ بنک ہے کہ آپ کی امت سے کوئی نبی نہیں بن سکتا یا یہ کہ آپ کے فیض سے آپ کی امت میں سے بھی نبی بن سکتا ہے۔بڑے تعجب کی بات ہے کہ ایک انسان جو تمام جہان کے لئے رحمت اور فضل ہو کر آتا ہے اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس کو نے آکر خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی تمام راہوں کو بند کر دیا ہے اور آئندہ نبوت تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔لیکن میں کہتا ہوں نبوت رحمت ہے یا زحمت اگر رحمت ہے تو آنحضرت ا کے بعد بند کیوں ہو گئی آپ کے بعد تو زیادہ ہونی چاہئے تھی آپ تو ایک بہت بڑے درجہ کے نبی تھے اس لئے آپ کے بعد جو نبی آتا وہ بھی بڑے درجہ کا ہونا چاہئے تھا نہ یہ کہ کوئی نبی ہی نہ بن سکتا۔دیکھو! دنیا میں مدر سے ہوتے ہیں۔لیکن کسی مدرسہ والے یہ اعلان نہیں کرتے کہ ہمارے مدرسہ میں اپنے لڑکوں کو بھیجو کیونکہ ہمارے مدرسہ کے استاد ایسے لائق ہیں کہ ان کے پڑھائے ہوئے لڑکے ادنی درجہ پر ہی پاس ہوتے ہیں۔لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ آنحضرت ﷺ کی شان بلند ثابت کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ چونکہ آپ کے شاگر د ادنی درجہ پر پاس ہوتے ہیں اس لئے آپ کی بڑی شان ہے۔لیکن آنحضرت اللہ کی شان پر یہ ایک ایسا زبر دست حملہ ہے کہ جو ابھی تک کسی عیسائی یا آریہ نے بھی نہیں کیا۔کیونکہ وہ در حقیقت آ۔دشمنی رکھتے ہیں اور آپ کو رحمت نہیں بلکہ زحمت سمجھتے ہیں لیکن یہ آپ کو رحمت سمجھ کر پھر یہ درجہ دیتے ہیں۔اور وہ جو دوسروں کے درجہ کو بڑھانے آیا تھا اس کے درجہ کو گھٹاتے ہیں۔مگر ہم رسول کریم ﷺ کی اس ہتک کو ایک منٹ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم حضرت مرزا صاحب کو نبی کہیں گے تو لوگ ہماری مخالفت کریں گے اور ہمیں رکھ دیں گے۔میں کہتا ہوں حضرت مرزا صاحب کو نبی نہ کہنے میں آنحضرت ا کی