انوارالعلوم (جلد 3) — Page 125
لوم جلد ۳۰ ۱۲۵ انوار خلافت اس پر آئے اور آنحضرت اللہ کے سوا کوئی اور شریعت لائے کیونکہ آپ کی شریعت قیامت تک کے لئے ہے اس لئے جو نبی بھی آئے گا اس کے اندر آئے گا اور اسی کو آکر پھیلائے گا۔آنحضرت ا حضرت موسیٰ کے بعد اس لئے شریعت لے کر آئے کہ ان کی لائی ہوئی شریعت باقی نہ رہی تھی۔یعنی ان کی لائی ہوئی شریعت کو لوگوں نے اس طرح بگاڑ دیا تھا کہ کوئی عمل کر کے خدا تعالٰی تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔پس ان کی شریعت کو آنحضرت اللہ نے مٹا دیا اور ان کی شریعت میں جو نقص پیدا ہو گئے تھے ان کو دور کر دیا اور دنیا کے سامنے ایک ایسی شریعت پیش کی جس میں کبھی نقص نہیں آسکتا۔غرض نئی شریعت کی ضرورت پہلی شریعت کے خراب ہو جانے یا ضائع ہو جانے یا نئی ضروریات پیدا ہو جانے پر ہوتی ہے اور اگر کوئی شریعت ایسی آجائے کہ اس میں یہ تینوں نقص پیدا نہ ہوں تو اس کے بعد کسی جدید شریعت کی ضرورت نہ رہے گی چنانچہ قرآن کریم ایسی ہی کتاب ہے جس میں کامل شریعت آئی ہے اور جو ہر ایک نقص سے محفوظ ہے۔پس اس کے بعد کوئی شریعت نہیں لیکن نبی کی ضرورت کو کامل شریعت نہیں روک سکتی۔اور اگر کوئی شخص کہے کہ رسول کریم اے کے بعد نبی نہیں آسکتا تو میں کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود آنحضرت ﷺ کے بعد نہیں آئے کیا نبی کریم کی نبوت اور آپ کی حکومت ختم ہو گئی ہے کہ کہا جائے کہ مرزا صاحب آپ کے بعد آئے ہیں مرزا صاحب کی نبوت تو نبی کریم کی نبوت کے اندر ہے۔کیا اندر کی چیز کو باہر کی کہا جاتا ہے۔مثلاً ایک مکان میں کچھ آدمی بیٹھے ہوں تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ مکان سے باہر ہیں۔بلکہ یہی کہیں گے کہ مکان کے اندر ہیں۔پس جب حضرت مرزا صاحب بھی آنحضرت لا کے اندر ہیں تو پھر انہیں بعد اول میں آنے والا کیوں قرار دیا جائے۔ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ آنحضرت آنحضرت کی ہتک نہیں بلکہ عزت ہے کے بعد کسی نبی کا آنا خواہ وہ آپ کے فیض سے ہی کیوں نہ نبی بنے آپ کی ہتک ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ ان لوگوں کا یہ کہنا آنحضرت کی تک ہے کیونکہ نبوت تو خدا تعالیٰ کی رحمت ہے جو وہ اپنے بندوں پر نازل کیا کرتا ہے اور آنحضرت ا وہ رسول ہیں جو سارے جہان کے لئے رحمت ہو کر آئے تھے۔لیکن آپ کے آنے پر کہا جاتا ہے کہ اب خدا تعالٰی نے وہ سارے فیض بند کر دیے ہیں جو