انوارالعلوم (جلد 3) — Page xiv
آپ کی مدد فرمائے۔آمین (۵) انوارِ خلافت یہ کتاب ان خطابات کا مجموعہ ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اپنے عہد خلافت کے دوسرے جلسہ سالانہ پر ۲۸٬۲۷ اور ۳۰ دسمبر ۱۹۱۵ء کو ارشاد فرمائے اور اکتوبر ۱۹۱۶ء میں یہ نقار پر کتابی شکل میں شائع ہوئیں۔۲۷ - دسمبر کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے دو خطابات ارشاد فرمائے ایک قبل از ظہر اور دو سرا بعد از ظهر قبل از ظهر کا خطاب "اسمه احمد " کی تشریح پر مشتمل تھا۔اس خطاب میں حضور نے سورۃ الصف اور سورۃ الجمعہ کی روشنی میں اسمُهُ أَحْمَدُ " کی صحیح تفسیر بیان فرمائی۔۲۷ - دسمبر کو بعد از ظهر آپ نے مسئلہ نبوت" پر خطاب ارشاد فرمایا۔اور ثابت کیا کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کسی طرح بھی قرآن و حدیث کے خلاف نہیں ہے۔اپنے اسی خطاب میں جماعت کی عملی حالت اصلاح و بہتری کے پیش نظر بعض مسائل مثلاً تحصیل علم ، غیر احمدی امام کی اقتداء میں نماز غیر احمدی کا جنازہ غیروں سے لڑکی بیاہنا اور گورنمنٹ کی و فاداری وغیرہ موضوعات پر اپنا موقف بیان کرتے ہوئے ضروری نصائح فرمائیں۔۲۸ - دسمبر کے خطاب میں آپ نے جماعت کی ترقی کے پیش نظر کچھ تاریخی واقعات کا تذکرہ فرما کر جماعت کو ماضی سے سبق سیکھنے اور آئندہ پیدا ہونے والے فتنوں سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا : تم لوگ یاد رکھو کہ آنے والا فتنہ بہت خطرناک ہے۔اس سے بچنے کے لئے بہت بہت تیاری کرو پہلوں سے یہ غلطیاں ہو ئیں کہ انہوں نے ایسے لوگوں کے متعلق حسن ظنی سے کام لیا جو بد ظنیاں پھیلانے والے تھے حالانکہ اسلام اس کی حمایت کرتا ہے جس کی نسبت بدظنی پھیلائی جاتی ہے اور اس کو جھوٹا قرار دیتا ہے جو بدظنی پھیلاتا ہے۔پس تم لوگ تیار ہو جاؤ تاکہ تم بھی اس قسم کی کسی غلطی کا شکار نہ ہو جاؤ۔کیونکہ اب تمہاری فتوحات کا زمانہ آ رہا ہے۔اور یاد رکھو