انوارالعلوم (جلد 3) — Page 101
و هم چند ۳۰ H انوار خلافت ہوں" اس عبارت کو پڑھ کر ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ الوصیت کے اس حکم کی کہ میرے نام پر بیعت لیں۔انجمن اشاعت اسلام نے یہ تاویل کی ہے کہ احمد کے نام پر لوگوں کی بیعت لینی شروع کی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود کا نام احمد نہیں تو میرے نام پر بیعت لینے کا حکم کس طرح پورا ہوا۔اور اگر آپ کا نام احمد ہے جیسا کہ ان الفاظ بیعت سے ظاہر ہے تو پھر اس بات پر بحث کیوں ہے کہ حضرت صاحب کا نام احمد نہ تھا اور کیوں جو الزام ہم پر دیا جاتا ہے اس کے خود مرتکب ہو رہے ہیں اور کیوں غلام احمد کو احمد بنا رہے ہیں لیکن ہر ایک شخص جو تعصب سے خالی ہو کر اس امر پر غور کرے سمجھ سکتا ہے کہ در حقیقت ہمارے مخالفین کے دل بھی یہی گواہی دے رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا۔اور ہم پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں وہ صرف دکھانے کے دانت ہیں اور ان کے کھانے کے دانت اور ہیں۔نواں ثبوت حضرت مسیح موعود کا نام احمد ہونے کا یہ ہے کہ خود آپ نے اس نواں ثبوت آیت کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔چنانچہ آپ ازالہ اوہام جلد ۲ صفحہ ۳۶۳ میں تحریر فرماتے ہیں: اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔اور احمد اور عیسی اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔اسی کی طرف یہ اشارہ ہے وَ مُبَشِّرًا بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُةَ أَحْمَدُ مگر ہمارے نبی ا فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔لیکن آخری زمانہ میں بر طبق پیشگوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔" (روحانی خزائن جلد ۳ صفحه (۴۶۳) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے اس میں دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اگر رسول کریم ہے اس جگہ مراد ہوتے تو محمد واحمد کی پیشگوئی ہوتی۔لیکن یہاں صرف احمد کی پیشگوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو مجرد احمد ہے پس یہ حوالہ صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ آپ احمد تھے بلکہ یہ کہ اس پیشگوئی کے آپ ہی مصداق ہیں اور اگر کسی دوسری جگہ پر آپ نے رسول کریم کو بھی اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے تو اس کے یہی معنی ہیں کہ بوجہ اس