انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page ix of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page ix

آپ کو کہا جاتا تھا اور آپ شروع دعوئی سے نبی ہی تھے لیکن ایک وقت تک احتیاط انبیاء سے کام لے کر آپ لفظ نبی کی تاویل کر لیا کرتے تھے "۔پھر فرمایا : ”میرے نزدیک حضرت مسیح موعود شروع دعوئی سے ایک سے ہی نبی تھے ہاں پہلے آپ اپنے آپ کو جزوی نبی قرار دیتے تھے اور اپنے الہامات کی تاویل کرتے تھے۔لیکن بعد میں جب بار بار آپ کو نبی قرار دیا گیا تو آپ نے ان الہامات کی تحریک سے اپنے اس عقیدہ کو بدلا کہ آپ جزوی نبی ہیں نہ کہ آپ کو جزوی نبی سے نبی بنا دیا گیا" حضرت مسیح موعود کی جزوی نبوت کے بارے میں اپنے عقیدہ کو واضح کرنے کے بعد آپ نے بعض اور غلط فہمیوں کا ازالہ فرماتے ہوئے مسئلہ نبوت کے مختلف پہلوؤں پر قرآن و حدیث کے دلائل سے وضاحت فرمائی۔(۲) ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب مارچ ۱۹۱۵ء میں ایک غیر از جماعت دوست نے پانچ سوالات تحریر کئے اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ حضور خود ان کا جواب ارشاد فرما ئیں۔ان سوالات کی اہمیت کے پیش نظر آپ نے یہ جواب نہ صرف الفضل کی ۱۳ اپریل ۱۹۱۵ء کی اشاعت میں شائع کروا دیے بلکہ افادہ عام کے لئے ۱۹ - اپریل ۱۹۱۵ء کو پمفلٹ کی شکل میں بھی انہیں شائع کروا دیا گیا۔- جن سوالات کا اس رسالہ میں جواب دیا گیا ہے وہ درج ذیل ہیں : (1) اگر میں احمدیت کا اظہار کروں تو مجھے تمام مسلمان کافر سمجھیں گے اور مجھے بھی ان کو ایسا ہی سمجھنا پڑے گا۔(۲) احمد می لوگ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز جائز نہیں سمجھتے اس لئے غیر احمدی بھی ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اس طرح مجھے تمام اسلامی مساجد سے قطع تعلق کرنا پڑے گا۔حالانکہ ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہے کہ پنجوقتہ جماعت کے ساتھ قریب کی مسجد میں نماز پڑھے اور