انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page x of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page x

انوار العلوم جلد ۳ تعارف کر جمعہ کی نماز جامع مسجد میں ادا کرے۔(۳) اس صورت میں آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ احمدی نام اختیار کرنے سے مجھے کس قدر تکلیف اٹھانی پڑے گی۔قرآن کریم ہمیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا قرآن کریم میں ہمارا نام مسلمان ہے اور ہمیں تاکید ہے کہ ہم مذہب کو فرقوں میں تقسیم نہ کریں۔(۴) قرآن یا حدیث میں کسی جگہ پر مذکور نہیں کہ ہر انسان کو اپنی نجات کے لئے مسیح اور مهدی پر اعلانیہ ایمان لانا ضروری ہے۔(۵) باوجود اس کے مذکورہ بالا حالات کے ماتحت میں اس میں کوئی حرج نہیں دیکھتا کہ خفیہ طور پر ایمان رکھوں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ان سوالات کا اصولی جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا : ” میرے خیال میں ان سب سوالات کے جواب ہم صرف ایک سوال میں دے سکتے ہیں اور وہ یہ کہ آیا حضرت مسیح موعود خدا تعالی کی طرف سے تھے یا نہیں۔اگر آپ حق پر نہ تھے تو ان سوالات کی ضرورت ہی نہیں رہتی کیونکہ جھوٹے آدمی کا ماننا خواہ پوشیدہ ہو خواہ ظاہر ہر طرح گناہ اور معصیت ہے اور اگر آپ بچے تھے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ ضرور بچے تھے تو پھر یہ سوال بھی حل ہو جاتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود نے اپنی بیعت کرنے یا نہ کرنے۔اپنے مخالفوں کے پیچھے نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے وغیرہ سب مسائل کی بناء خدا تعالیٰ کے الہامات پر رکھی ہے۔اور اپنی طرف سے ان مسائل پر کچھ نہیں لکھا۔پس آپ کی صداقت ثابت ہو جانے کے بعد ایک دانا انسان کے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا کہ وہ ان سب باتوں کو قبول کرے کیونکہ ان کو رد کرنا خدا تعالیٰ کے احکام اور اس کے فیصلہ کو رد کرتا ہے۔اور ان کا قبول کرنا در حقیقت خدا تعالی کے فیصلہ کو قبول کرنا ہے" اس کے علاوہ ان صاحب کی مزید تسلی کے لئے آپ نے ہر سوال کا الگ الگ جواب بھی تحریر فرمایا۔