انوارالعلوم (جلد 3) — Page 49
ام جلد۔۴۹ پیغام مسیح موعود گا۔جس کے معنی صلح کرانی اور خوض سے گند نکال کر صاف کرنا ہیں۔لمس چھونے کو کہتے ہیں۔تمام باتیں جو انسان محفوظ کرتا ہے۔پانچ جو اس سے کرتا ہے ان میں سے ایک لمس بھی ہے۔لَمَسَ الْمَاء کے معنے ہیں پانی یہ پڑا۔جب پانی بہہ کر کھیتی میں پہنچتا ہے تو کھیتی کی حفاظت کرتا ہے اور اسے خشک ہونے سے بچاتا ہے۔اسی طرح بسم ہے اس کے معنے چپ رہنے کے ہیں اور یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ نکلی ہونٹوں چڑھی کو ٹھوں۔حفاظت اور امن جو خاموشی میں نصیب ہوتا ہے۔اس کو ہر ایک جانتا ہے۔ملمس مداہنت کو کہتے ہیں اور مداہنت کی غرض ہمیشہ یہی ہوتی ہے کہ کسی شخص کے شرسے چکنی چپڑی باتیں کر کے محفوظ ہو جائے۔یہ تو لفظ اسلام کے روٹ کو آگے پیچھے کر کے جو الفاظ بنتے ہیں ان کے معنوں کا اشتراک میں نے بتایا ہے۔اب ایمان کے متعلق بتاتا ہوں۔انام مخلوق کو کہتے ہیں اور کسی چیز کا بن جانا ہی اس کی حفاظت کا پہلا ذریعہ ہوتا ہے۔نام کے معنے بولنے اور آواز نکالنے کے ہیں۔بولنا زندگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔اور اس مفہوم کے مطابق یہ لفظ عربی میں استعمال ہوتا ہے چنانچہ جو شخص مرجائے اس کی نسبت کہتے ہیں اَسكَتَ الله نامه جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آواز بند کر دی۔لیکن مراد یہ ہے کہ اسے مار دیا۔مانَ الْقَوْمَ کے معنے ہیں قوم کو کھانا کھلانا۔کھانا بھی حفاظت کا باعث ہے اگر کوئی کھانا نہ کھائے تو ہلاک ہو جائے۔مَانَ الشَّيْئَ کے معنے ہیں اس کے جس قدر پہلو ہیں سب کو پورا کیا اور مہیا کر لیا جائے۔مَانَ فِي الْأَمْرِ کے معنے غور کر کے بات کو ذہن میں جمالینے کے ہیں۔مانةٌ ناف کو کہتے ہیں۔اس کے ذریعہ بچہ کو غذا پہنچتی ہے اور بچہ زندہ رہتا ہے۔منا الجلد کے معنے چمڑے کو رنگ کر مضبوط کرنے کے ہیں۔غرض س ل م اور امن یہ تینوں حروف آگے پیچھے ہو کر جس طرح بھی آئیں ان کے معنے حفاظت کے ہی ہوتے ہیں۔پس اسلام اور ایمان کے معنے یہ ہوئے کہ ایسے افعال کرنا جن سے انسان ہلاکت سے محفوظ ہو جائے۔تو خدا تعالیٰ نے اپنے بچے مذہب کے نام کے لئے ایسے الفاظ رکھے ہیں کہ ان میں ہی مذہب کی اصل غرض بتادی ہے جو دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ خدا تعالی کے غضب سے لوگ بچ جائیں اور آپس کے لڑائی جھگڑوں سے نجات پا جائیں۔اب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو اسلام کی یہی تعریف قرآن شریف سے معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ مومن کے فرائض قرآن کریم نے یہی بیان فرمائے ہیں جیسا کہ فرمایا تعلیم القرآن إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيْنَاىٰ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ