انوارالعلوم (جلد 3) — Page 560
العلوم جلد ۳۰ ۵۶۰ زندہ خدا کے زبردست نشان اس کے بعد ستمبر ۱۹۱۴ ء کے پرچہ میں یہ پیشگوئی شائع کی گئی۔اسی طرح جون ۱۹۱۵ء میں اور جنوری ۱۹۱۶ء میں یہ پیشگوئی شائع کی گئی۔پیشگوئی جن واضح الفاظ میں ہے اس کے متعلق لکھنے کی ہمیں چنداں ضرورت نہیں۔صاف الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ اس جنگ کے دوران میں زار روس ایک ایسی حالت میں مبتلا ہو گا جو بالکل ردی اور قابل رحم ہو گی۔اردو کے الفاظ جو زار کی حالت کے اظہار کے لئے استعمال کئے گئے ہیں حال زار کے ہیں۔جن کے معنے ایسی حالت کے ہیں جس میں سب سامان ہاتھ سے جاتے رہیں اور بغیر کسی دوسرے کے بتانے کے وہ حالت اپنی خرابی اور تباہی کو آپ بیان کرے۔یہ پیشگوئی جس وقت کی گئی تھی اس وقت ان حالات کا جو آج ۱۹۱۷ء میں پیش آئے ہیں کوئی نام و نشان نہ تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ روس اس وقت جاپان سے بر سر جنگ تھا لیکن اس وقت صلح کی کارروائی کی کوشش امریکہ کے ذریعہ شروع تھی اور پیشگوئی بتاتی ہے کہ اک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نشان اس تاریخ کے بعد آنے والا ہے۔دوم اس پیشگوئی سے صاف ظاہر ہے کہ یہی وہ آفت ہو گی جو سب دنیا پر آوے گی اور جس کی مصیبت عام ہو گی۔اس پیشگوئی کے الفاظ صاف بتاتے تھے کہ یہ واقعات اس وقت کے پیش آمدہ حالات کے علاوہ تھے اور بعد میں آنے والے تھے اور ایسے رنگ میں ظاہر ہونے والے تھے کہ ان کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں پائی جاتی۔غرض یہ پیشگوئی ایسے وقت میں کی گئی تھی کہ جب قیاس سے ان واقعات کا علم نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اس میں بتایا گیا تھا کہ زار کی حالت زار ہونے کا وہ وقت ہو گا جب کہ کل دنیا ایک عام مصیبت میں مبتلا ہو گی۔اور اور خون سے مردوں کے کوہستان کے آب رواں سرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن و انس اور یہ حالات ۱۹۱۴ء سے پہلے نہیں پیدا ہوئے بلکہ اس وقت بھی خود وہ لوگ بھی جن کے ہاتھ میں مخاصمین حکومتوں کی باگ ڈور تھی اس خطر ناک حالت کا اندازہ نہیں کر سکتے تھے جو بعد کے واقعات سے پیدا ہو گئی۔حتی کہ برطانیہ کے بعض وزراء تک اس بات پر زور دے رہے