انوارالعلوم (جلد 3) — Page 545
دوم جلد ۳۰ ۵۴۵ عید الاضحی پر مسلمانوں کا فرض چھوٹی باتوں پر وقت خرچ کرنا جب کہ بڑے کام ہمارا انتظار کر رہے ہوں نادانی ہے۔پس اس دفعہ کی عید کو حقیقی عید بنانے کے لئے ابراہیمی قربانی کو قائم کرو۔تا خداوند تعالیٰ کا فضل جوش میں آئے اور وہ برکتوں سے ہمارا گھر بھر دے۔اور اس دن کو مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے لئے وقف کر دو۔اس دن جو وقت بھی عبادت سے بچے اسے بجائے بے فائدہ باتوں میں جوش دکھانے کے اپنے دوستوں کو اس بات کے سمجھانے میں خرچ کرو کہ وہ آج سے مسلمانوں کی بہبودی اور اپنی اور اپنی اولادوں کی زندگی کے لئے یہ عہد کر لیں کہ جہاں وہ ہندو اور دوسری قوموں کے جائز احساسات کا حتی الوسع احترام کر کے اسلام کی اعلیٰ تعلیم کا ثبوت دیں گے وہاں اسلام کی بہتری کے لئے کسی ہندو سے کھانے پینے کی چیزیں نہیں خریدیں گے۔جب تک کہ وہ چھوت چھات کو ترک کر کے مسلمانوں کے ہاتھوں کا چھوا ہوا کھانا علی الاعلان کھانا شروع نہ کریں۔ہندوؤں نے چھوت چھات کے بہانے سے اس قدر روپیہ مسلمانوں سے وصول کیا ہے کہ اگر آج وہ روپیہ مسلمانوں کے پاس ہو تا تو ان کے گھر سونے کے ہوتے۔لیکن آج وہ اس ظالمانہ تدبیر کی وجہ سے اپنی اولادوں کو تعلیم دینے تک سے محروم اور روٹی تک کے محتاج ہیں۔پس جو شخص اسلام کا درد رکھتا ہے اسے چاہئے کہ بجائے قربانیوں کو بلا وجہ بازاروں میں پھرانے پر اپنا وقت خرچ کرنے کے وہ اپنا سب وقت اس پر خرچ کرے کہ اپنے محلہ اور اپنے قصبہ میں بلکہ ممکن ہو تو پاس کے قصبات میں جائے اور مسلمانوں کو بتائے کہ آج مسلمان ہندوؤں کے سامنے صرف ایک بیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔جس طرح بیل جو کچھ کماتا ہے وہ اس کا مالک لے جاتا ہے۔اور اس کے لئے صرف بھوسہ رہ جاتا ہے۔اسی طرح مسلمانوں کا حال ہے کہ وہ جو کچھ کماتے ہیں اسے ایک طرف چھوت چھات اور دوسری طرف سود سے ہندو لے جاتے ہیں۔اور مسلمانوں کے لئے صرف بھوسہ باقی رہ جاتا ہے۔بلکہ بسا اوقات تو بھوسہ بھی باقی نہیں رہتا۔پس چاہئیے کہ مسلمان اگر واقعہ میں اسلام کا درد اپنے دل میں رکھتے ہیں تو اپنے مال کو اپنے پاس محفوظ رکھنے کی کوشش کریں۔اور ایک طرف تو یہ عہد کریں کہ ہندو جن باتوں میں ان سے چھوت کرتے ہیں یہ بھی ان سے ان باتوں میں چھوت برتیں۔اور دوسرے کسی ہندو ساہوکار سے سودی قرضہ نہ ملیں۔جو لوگ سود سے بچ سکیں انہیں تو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت سود سے قطعاً بچنا چاہئے۔لیکن جو لوگ پہلے سے سود میں مبتلا ہوں انہیں چاہئے کہ سرکاری بنک اپنے علاقہ میں کھلوا کر ان بنکوں سے سودی روپیہ لے لیں۔تاکہ ان کے آئندہ