انوارالعلوم (جلد 3) — Page 544
العلوم جلد ۳۰ ۵۴۴ عید الا پر مسلمانوں کا فرض ہزاروں مسلمانوں کو بیدار کرنے کا موجب ہو جائے گا۔پس اخلاص اور محبت سے تمام ان لوگوں سے جو خواہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں لیکن اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں یہ استدعا کرتا ہوں کہ وہ اس عید کے دن بجائے ظاہر پر زور دینے کے باطن پر زیادہ زور دیں۔قربانی ان کا حق ہے اور شریعت کا حکم۔اس کا چھڑوانا تو نہ کسی کے لئے جائز ہے نہ مسلمان اسے چھوڑ سکتے ہیں۔لیکن ایک بات ہے جسے مسلمان اختیار کر کے اسلام کے دشمنوں کو ایک زبر دست شکست دے سکتے ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ اس دفعہ مسلمان ہر جگہ پر قربانی میں یہ امر مد نظر رکھیں کہ جہاں تک ہو سکے قربانی اس طرح کی جائے اور ایسی جگہوں پر کی جائے کہ ہندو صاحبان کے احساسات کو صدمہ نہ پہنچے۔اسلام ہمیں ہر انسان کے احساسات کا احترام کرنے کا حکم دیتا ہے۔پس چاہئے کہ اس وقت جب کہ بعض ہندو اپنی طرف سے ہر ایک طریقہ مسلمانوں کو اشتعال میں لانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں ہم ان پر ثابت کر دیں کہ ہم ان کے دھوکے میں آکر اسلام کی تعلیم کو نہیں چھوڑ سکتے۔ہم ان کے گندے سے گندے برتاؤ کے باوجود بھی ان کے احساسات کا خیال کریں گے۔اور ایسا طریق اختیار نہ کریں گے کہ جس سے بے وجہ ان کو تکلیف پہنچے۔میں تمام مسلمانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس موقعہ پر اسلامی وسعت حوصلہ سے کام لے کر ان راستوں کو قربانی کے جانور گزارنے کے لئے اختیار نہ کریں جن پر ہندو رہتے ہیں۔اور قربانی کے گوشت کو بھی حتی الوسع پوشیدہ کر کے گزاریں تا ہندو صاحبان کو خواہ مخواہ تکلیف نہ ہو۔اور تا ان کے دل اس بات کو دیکھ کر شرمائیں کہ مسلمان ہمارے ادنیٰ احساسات کا خیال رکھتے ہیں ہمارے اپنے بھائی مسلمانوں کے شریف ترین جذبات کو ٹھیس لگانے کی کمینہ اور ذلیل حرکت سے بھی باز نہیں آتے۔اے دوستو! ہم تمام بازاروں اور ہندو محلوں سے قربانی کے جانوروں کو باجوں کے ساتھ گزار کر اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔لیکن ہم اپنے وقت اور اپنے مال کو تبلیغ اسلام کے لئے وقف کر کے اسلام کو تو ہمیشہ کے لئے مضبوط کر سکتے ہیں۔ہم اپنے اخلاق کو اعلیٰ بنا کر دشمنان اسلام کو شرمندہ کر سکتے ہیں اور خود ان کی نظروں میں انہیں حقیر بنا سکتے ہیں۔پس عقلمندوں کی طرح دشمن سے بدلہ لو۔اور اس کو اس راستہ سے پکڑو کہ جہاں سے وہ بھاگ نہ سکے۔اور وہ راستہ اخلاق کا راستہ اور تبلیغ کا راستہ ہے۔اپنی طاقت کو بے فائدہ باتوں میں ضائع کرنا عظمندی نہیں۔اور