انوارالعلوم (جلد 3) — Page 528
۵۲۸ ذکر الهی جس طرح میں نے بتایا ہے کہ جب کوئی نماز کے لئے کھڑا ہو تو اس کی نیت تیرہواں طریق اور قصد کر کے کھڑا ہو۔اسی طرح اسے یہ بھی چاہئے کہ وہ ارادہ کرے کہ میں نماز میں کسی خیال کو نہیں آنے دوں گا۔یوں تو ہر ایک جانتا ہے کہ خیال کو نہیں آنے دینا چاہئے لیکن پرانی بات بھول جایا کرتی ہے اس لئے جب نماز کے لئے کھڑا ہو تو اس وقت یاد کرلے کہ میں کسی اور خیال کو نماز میں نہیں آنے دوں گا۔جب مؤمن امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو۔تو امام کی قراءت چودہواں طریق اسے جگاتی اور ہوشیار کرتی رہتی ہے۔گویا امام اس کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔(اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی کس قدر ضرورت ہے) لیکن جس وقت اکیلا نماز پڑھنے لگے تو اس اعلیٰ درجہ کی بات پر عمل کرے جس پر رسول کریم ، صحابہ کرام اور صوفیائے عظام کرتے تھے۔اور وہ یہ کہ بعض آیتیں خاص طور پر خشیت اللہ پیدا کرنے والی ہوتی ہیں ان کو بار بار دہرائے۔مثلاً سورۃ فاتحہ پڑھتے وقت اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعینُ بار بار کہے۔حتی کہ اگر اس کا نفس ادھر ادھر کے خیالات میں لگا ہو تو نفس کو شرم آجائے کہ منہ سے تو میں اللہ تعالٰی کی غلامی اور بندگی کا دعوی کر رہا ہوں اور عملاً ادھر ادھر بھاگتا پھرتا ہوں۔یہ طریق میں ایسے لوگوں کے لئے بتاتا ہوں جن کی نیت زیادہ دیر تک پندرہواں طریق قائم نہیں رہ سکتی۔جس طرح ایک بچہ کو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ورده ھ دینے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ زیادہ دیر تک بھوک برداشت نہیں کر سکتا اور اکٹھی غذا ہضم نہیں کر سکتا۔اسی طرح بعض لوگوں کو جلدی جلدی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ اس طرح کریں کہ جب کھڑے ہوں تو یہ نیت کرلیں کہ رکوع تک کوئی خیال نہیں آنے دیں گے اور جب رکوع میں جائیں تو کہیں کہ کھڑے ہونے تک کوئی خیال نہ آنے دیں گے۔اسی طرح ہر حالت کے وقت نئی نیت کر لیا کریں۔اس سے ان کو ایک ایسی طاقت حاصل ہو جائے گی جس سے ان کے پراگندہ خیالات دور ہو جائیں گے۔اگر انسان خیالات کے آگے گر جائے تو پھر وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔سولہواں طریق لیکن اگر مقابلہ کرے اور کہے کہ ہرگز نہیں آنے دوں گا تو وہ رک جاتے ہیں۔اس لئے چاہئے کہ خیالات کا خوب مقابلہ کیا جائے اور جب کوئی خیال آنے لگے تو فوراً