انوارالعلوم (جلد 3) — Page 529
انوار العلوم جلد - r۔۵۲۹ ذکرالی اس کو روک دیا جائے۔مثلاً کسی کو خیال آنے لگے کہ میرا بچہ بیمار پڑا ہے اب اس کی کیا حالت ہوگی تو فورا یہ کہہ کر روک دے کہ اگر میں یہ خیال دل میں لاؤں گا تو بچہ اچھا نہیں ہو جائے گا اور اگر نہیں لاؤں گا تو زیادہ بیمار نہیں ہو جائے گا اس لئے میں یہ لاتا ہی نہیں۔اسی طرح ہر ایک بات کے متعلق کرے حتی کہ ایسے خیالات پر قابو حاصل ہو جاوے۔جب گھر میں نوافل پڑھے جائیں تو اس قدر اونچی آواز سے قراءت پڑھنی سترہواں طریق چاہئے کہ آواز کانوں تک پہنچتی رہے۔اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ کان چونکہ کسی چیز سے تو بند نہیں کئے جاتے اس لئے کچھ نہ کچھ کام کرتے ہیں۔جب آواز سے بھی خدا تعالیٰ کا ذکر ہو جاتا ہے تو پھر توجہ زیادہ قائم ہو جاتی ہے کیونکہ کان بھی ذکر الہی کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔اس طریق پر زیادہ تر رات کی نماز میں عمل کرنا چاہئے کیونکہ دن کے وقت جو میں ایک شور برپا ہوتا ہے اور کانوں سے اگر کام لیا جائے تو بجائے فائدہ کے بعض دفعہ توجہ بٹ جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔اٹھارہواں طریق یہ طریق اس حکمت کے ماتحت ہے کہ نیا خیال ہمیشہ نئی حرکت سے پیدا ہوتا ہے۔وہ حرکتیں جو نماز میں کی جاتی ہیں۔ان میں یہی خیال پیدا ہوتا ہے کہ عبادت کی جائے اس لئے ان سے کوئی حرج نہیں ہو تا۔مگر اور حرکات کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ اور طرف توجہ چلی جاتی ہے۔اس لئے رسول کریم ا نے فرمایا ہے کہ ضروری حرکت کے سوا نماز پڑھنے کی حالت میں کوئی حرکت نہیں کرنی چاہئے۔واقعہ میں غیر ضروری حرکت کرنے سے خیالات پراگندہ ہو جاتے ہیں۔مثلا کسی نے یونہی کوٹ کو ہاتھ لگا دیا۔ہاتھ لگاتے وقت اسے خیال آیا کہ یہ کوٹ تو پرانا ہو گیا ہے نیا بنوانا چاہئے۔اس پر خیال آیا کہ کوٹ کے لئے روپیہ کہاں سے آئے تنخواہ تو بہت تھوڑی ہے پھر یہ کہ تنخواہ ملے ہوئے بھی دیر ہو گئی ہے۔پھر اگر افسر کی غلطی سے تنخواہ میں دیر ہوئی ہوگی تو افسر کو برا بھلا کہے گا اور ان خیالات میں ہی محو ہو جائے گا کہ اب میں اس کے ساتھ یوں کروں گا پھر یوں کروں گا اسی طرح کرتے کرتے السلام علیکم و رحمتہ اللہ کی آواز آجائے گی اور وہ بھی سلام پھیر دے گا۔تو چونکہ نئی حرکت ایک نیا خیال پیدا کر دیتی ہے اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ نماز میں کوئی نئی حرکت نہیں کرنی چاہئے۔اور یہاں تک فرمایا کہ اگر سجدہ کے مقام پر کنکر پڑے ہوں تو ان کو بھی نہیں ہٹانا چاہئے اور اگر بہت تکلیف ہو تو ایک دفعہ ہٹا دینا چاہئے۔پس نماز پڑھتے