انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 497

۴۹۷ ذکرالی لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہو گیا کہ آپ کے سامنے قوالیاں پڑھی جاتیں یا نا چا جاتا تھا یا محبتِ کے شعر پڑھے جاتے اور اس پر صحابہ رقص کرتے تھے۔اور ان پر بیہوشی طاری ہوتی تھی۔پس آج کل جو کچھ کیا جاتا ہے یہ سب بدعت ہے جو عام طور پر پھیل گئی ہے۔پھر رسول کریم اس طرح شعر سنتے تھے کہ کفار سے جنگ ہو رہی ہے ایک صحابی جوش دلانے کے لئے کہتا ہے کہ آج یا تو ہم فتح پائیں گے یا جان دے دیں گے مگر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔پس یہ دلیل کہ چونکہ رسول کریم شعر سنتے تھے اس لئے ہم بھی سنتے ہیں بالکل غلط اور بیہودہ ہے۔پھر شعر سن کر جن قدر حرکتیں کی جاتی ہیں وہ سب کی سب خلاف شرع ہیں۔اسلام میں ان کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔برخلاف ان کے قرآن کریم ذکر الہی کرتے وقت کی پانچ حالتیں قرآن کریم سے سے جو ذکر اٹھی کرنے کی حالت معلوم ہوتی ہے اس میں یہ کہیں نہیں کہ ذکر الٹی کرتے ہوئے غشی آجاتی ہے اور بیہوشی طاری ہو جاتی ہے۔یا سننے والے سر مارنا اور اچھلنا شروع کر دیتے ہیں۔بلکہ ذکر الہی کے متعلق خدا تعالی پھر فرماتا ہے کہ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمُ (الانفال:3: پھر فرماتا ہے۔تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَونَ رَبَّهُمْ ، ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَ :۳) قُلُوبُهُمْ إِلى ذِكْرِ اللهِ ، الامر : (۲۴) پھر فرماتا ہے إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ أَيْتُ الرَّحْمَنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا (مريم : (۵۹) ذکر الٹی کرنے والوں کی یہ حالتیں ہوتی ہیں۔(1) مؤمن جب ذکر اللہ کرتے ہیں تو ان کے دل ڈر جاتے اور ان میں خوف پیدا ہو جاتا ہے۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا رب بڑی شان والا اور شوکت والا ہے۔(۲) اقشعرار ہو جاتا ہے۔یعنی خوف سے ان کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔(۳) کہ ان کے بدن ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور دل نرم ہو جاتے ہیں۔(۴) وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں۔یعنی عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں۔(۵) رونے لگ جاتے ہیں۔یہ پانچ حالتیں ہیں جو خدا تعالیٰ نے بتائی ہیں۔اگر ناچنا کو دنا بہوش ہونا اور زور زور سے چینا بھی ہوتا تو خدا تعالی ان کو بھی بیان کرتا اور فرما دیتا کہ مومن وہ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو اپنے کپڑے پھاڑ کر پرے پھینک دیتے ہیں۔اور کودنے شور مچانے لگ جاتے ہیں۔یا الٹے لٹک کر سر ہلانا اور حال کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔لیکن اللہ تعالٰی نے تو ان میں سے کوئی ایک بات بھی بیان نہیں فرمائی۔اس سے معلوم ہوا کہ ان کا ذکر الہی سے کوئی