انوارالعلوم (جلد 3) — Page 493
انوار العلوم جلد ۳۰ ۴۹۳ ذکرالی جو ان لوگوں نے پیدا کرلی ہیں یہ بری ہیں۔مگر ان لوگوں کو کچھ پرواہ نہیں ہے حالانکہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ (نسائى كتاب صلاة العيدين كيف الخطبة للعیدین) ہر ایک نئی بات جو دین میں پیدا کی جائے وہ گمراہی ہے اور ہر گمراہی جنم میں لے جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے بنائے ہوئے ذکر خدا تعالیٰ کے قریب لے جانے والے نہیں بلکہ بہت دور کر دینے والے ہیں۔چنانچہ جب سے اس قسم کے ذکر نکلے ہیں اسی وقت سے مسلمان خدا تعالیٰ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔چونکہ یہ سب باتیں بدعت ہیں اور جب خدا تعالیٰ اور آنحضرت اللہ کی بتائی ہوئی باتوں کے خلاف کیا جائے گا تو ضرور ہے کہ اس سے روحانیت کمزور ہو اس لئے مسلمانوں میں سے روحانیت مٹ رہی ہے۔دوسرے یہ کہ ان بدعتوں میں ایک خاص بات ہے جس کی وجہ سے بظاہر لذت اور سرور محسوس ہوتا ہے۔مگر چونکہ وہ ساری لذت اور سرور بناوٹی ہوتا ہے اس لئے حقیقی لذت سے غافل ہو کر بناوٹی کے پیچھے لگ جاتا ہے تو ہلاک ہو جاتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ ایک شخص کے پیٹ میں درد ہو۔لیکن وہ بجائے اس کے کہ اس کا علاج کرے افیم کھا کر سو رہے۔اس کا عارضی نتیجہ تو یہ ہو گا کہ بے ہوش ہو جانے کی وجہ سے اسے آرام محسوس ہو گا مگر دراصل وہ ہلاک ہو رہا ہو گا اور ایک وقت آئے گا جبکہ وہی درد اس کو ہلاک کر دے گا۔اصل بات یہ ہے کہ آج کل جس کا نام لوگوں نے ذکر رکھا ہوا ہے وہ ایک علم ہے جسے علم الترب کہتے ہیں اور انگریزی میں مسمریزم اور ایک دوسرا علم ہے جس کا نام ہپناٹزم ہے جو فرانس کے ایک ڈاکٹر نے ایجاد کیا ہے۔اس کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ خیال سے تعلق رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ نے خیال میں ایک ایسی طاقت رکھی ہے کہ جب خاص طور پر اسے ایک طرف متوجہ کیا جاتا ہے تو اس میں ایک خاص اثر پیدا ہو جاتا ہے۔اور اس کے ذریعہ قلب میں لذت اور سرور بھی پیدا کیا جا سکتا ہے۔لیکن وہ لذت ایسی ہی ہوتی ہے جیسی کہ ایم کو کین یا بھنگ پی کر حاصل ہوتی ہے حالانکہ دراصل وہ لذت نہیں ہوتی بلکہ صحت کو خراب کر دینے والی بیہوشی ہوتی ہے۔اسی طرح جب اجتماع خیال سے اعصاب پر اثر ڈالا جاتا ہے تو ایک قسم کی غنودگی طاری ہو جاتی ہے جس سے لذت محسوس ہوتی ہے۔اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ اللہ کہنے کی لذت ہے حالانکہ اس وقت اگر وہ رام رام بھی کہیں تو بھی ویسی ہی لذت محسوس ہو۔لکھا ہے کہ ایک بزرگ کشتی میں بیٹھے کہیں جا رہے تھے انہوں نے ذکر کرنا شروع ،