انوارالعلوم (جلد 3) — Page 471
العلوم جلد ۳ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں والے سگے بھائیوں سے بھی زیادہ تم میں الفت دیکھیں۔اپنے دلوں کو بغض اور حسد سے پاک کر لو اور آئینہ کی طرح بنالو۔پھر خدا کی راہ میں اپنے مالوں کو بے دریغ خرچ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔اپنے اوقات کو خدا کے لئے لگا دو۔کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جس سے تم کامیاب اور فاتح ہو سکتے ہو اور اسی ذریعہ سے خدا تعالٰی کی خوشنودی اور رضا حاصل کر سکتے ہو۔پس میری اس نصیحت کو یاد رکھو اور اس پر عمل کرو۔میں نہیں جانتا کہ اگلے سال میری جگہ کون کھڑا ہو گا۔میری صحت تو اچھی نہیں رہتی۔پھر بعض دوستوں نے میرے متعلق متوحش خوابیں بھی دیکھی ہیں۔خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اگلے سال تک کیا ہو گا مگر میں جو کچھ کہتا ہوں اس کو یاد رکھو اور اس موقعہ سے فائدہ اٹھاؤ جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دے رکھا ہے۔اگر خدا کے دیے ہوئے موقعہ کو ضائع کر دیا جائے تو پھر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے۔پس قبل اس کے کہ تم خدا کے عتاب کے مورد بنو اس سے فائدہ اٹھاؤ۔اور اپنے عہدوں کو پورا کر کے دکھا دو۔آج جس کسی کا کسی بھائی سے کینہ ہو وہ دل سے نکال دے۔اگر کسی پر غصہ ہے تو ترک کر دے۔اگر کسی سے ناراضگی ہے تو صلح کرلے۔اور اگر کسی سے تکلیف پہنچی ہے تو معاف کر دے اور سب کو اپنا بھائی سمجھے۔تم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ ایک ہو کر کام کرو اگر کوئی ست ہے تو اس کی مدد کرو۔اور ہر وقت تمہارے مد نظر دین ہونا چاہئے۔اس کے لئے اپنا سب کچھ صرف کردو۔دیکھو تم سے پہلی جماعتیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں سب کچھ دے دیا اور اس کے لئے تکلیفیں برداشت کیں مصیبتیں جھیلیں وہ ضائع نہیں ہو ئیں بلکہ بڑے بڑے انعاموں کی وارث بنیں ہیں۔اب انہیں انعاموں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اس لئے اٹھو اور جھولیاں بھر لو۔خدا تعالیٰ رحمٰن ہے۔جب اس نے بغیر تمہاری محنت کے یہ سب چیزیں زمین آسمان چاند سورج، تمہارا جسم ، عقل اور فہم پیدا کیا ہے تو سمجھ لو کہ جب وہ رحیمیت کا جلوہ دکھائے گا اس وقت تم پر کس قدر انعام نازل کرے گا۔پس اللہ کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔اور جو موقعہ تمہیں نصیب ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ جو لوگ یہاں آج بیٹھے ہیں وہ یہاں سے نہ اٹھیں مگر اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے۔اور جو لوگ اپنے گھروں میں ہیں ان کو بتادیں کہ تبدیلی کر لیں۔اس وقت اسلام کی حالت بہت دردناک ہو رہی ہے۔بڑے چھوٹے ، عالم، جاہل، امیر، غریب سب بگڑ چکے ہیں اور ہر طرف سے دشمن حملہ آور ہو رہے ہیں۔تاریخ دان تاریخ کی آڑ میں ، منطق دان منطق کے پردہ میں فلسفہ دان