انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 470

دم جلد - جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ وہ دشمن تھا اس لئے اس نے گندی مثال دی ہے۔لیکن جو کچھ اس کا خیال تھا وہ صحیح تھا۔چنانچہ جب حضرت معاویہ کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ اگر تم نے حملہ کیا تو سب سے پہلے میں وہ شخص ہوں گا جو علی کی طرف سے تمہارے مقابلہ کے لئے کھڑا ہوں گا۔میں نے بتایا ہے کہ اس پادری نے مسلمانوں کو ایک گندی مثال سے تشبیہ دی تھی کیونکہ وہ ان کا دشمن تھا مگر میں کہتا ہوں کیا اس میں کچھ شک ہے کہ کتے بھی جو ذلیل مخلوق ہے دشمن کے مقابلہ کے وقت اکٹھے ہو جاتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ ایسے انسان جن کو اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے اور جو اس زمانہ میں خدا تعالٰی کے ایک نبی کو مان کر اولی الالباب میں داخل ہو گئے۔ہیں۔اور جنہوں نے اس چشمہ سے پانی پیا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بہا ہے۔اور ایسے وقت میں اسلام کی مدد کے لئے کھڑے ہوئے جبکہ اسپر نہایت خطرناک وقت آیا ہوا ہے۔وہ اگر آپس میں لڑنا شروع کر دیں تو کس قدر افسوس کی بات ہے۔ان لوگوں کو جانے دو جو اختلاف کر کے ہم سے الگ ہو گئے ہیں مگر تم بھی جنہوں نے ایک امام کی بیعت کی ہوئی ہے اور ایک سلک میں منسلک ہو دنیاوی معاملات میں آپس میں لڑائی جھگڑا کرو تو کیسا رونے کا مقام ہے۔ابھی میں نے آپ لوگوں کو حضرت مسیح موعود کی تعلیم سنائی ہے۔اس پر عمل کرو۔اور اگر تم میں کوئی اختلاف ہوتا ہے تو اس کو عمدگی سے دور کرو۔اگر کوئی تکلیف پہنچاتا ہے تو اسے برداشت کرو۔بعض اوقات بہت معمولی معمولی باتوں پر اختلاف ہو جاتا ہے کہ فلاں کو کیوں سیکرٹری بنایا گیا ہے۔فلاں پریذیڈنٹ کیوں بن گیا۔کیا موجودہ زمانہ اس قسم کے اختلاف کرنے کا ہے۔ان لوگوں کو دیکھو جن کا مذہب ہمارے نزدیک سچا نہیں اور جو محض دنیا کی عزت اور توقیر کے لئے مر رہے ہیں ان میں بڑے بڑے جرنیل ہوتے ہیں مگر ضرورت کے وقت انہیں دوسروں کے ماتحت کر دیتے ہیں۔مگر اتنا بھی نہیں پوچھتے کہ اس طرح کیوں کیا گیا ہے۔ابھی فرانس میں ایک ایسے شخص کو کمانڈر انچیف بنایا گیا ہے جو قریب زمانہ میں ہی کرنل تھا۔مگر کسی نے اس کے خلاف ذرا بھی آواز نہیں اٹھائی آپ لوگوں کو ایسے موقعہ پر جبکہ ہر چہار طرف سے دشمن حملہ آور ہو رہا ہے۔چھت پھاڑ کر اور دروازے توڑ کر تم پر یورش کر رہا ہے اپنے جھگڑے اور اپنے اختلاف کیونکر سوجھتے ہیں۔خدا کے لئے سوچو اور اپنے فرائض کو سمجھو۔اور اگر تم میں کوئی ایسے لوگ ہیں جن میں بعض کمزوریاں ہیں تو ان کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن جاؤ۔اور آپس میں ایسی محبت اور الفت دکھاؤ کہ دیکھنے