انوارالعلوم (جلد 3) — Page 437
انوار العلوم جلد - ۳ ۴۳۷ لدیہ کے فرائض ! ط حُقًّا فِي التَّواةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أو فى بِعَهْدِهِ مِنَ اللهِ فَاسْتَبْشِرُوا أَوْفَى بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ ، وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوب : (1) فرمایا ہم نے نبیوں کے ذریعہ جو تعلیم بھیجی ہے اور اس تعلیم پر عمل کرنے پر جو انعام مقرر کئے ہیں وہ کن لوگوں کے لئے ہیں۔کیا ان کے لئے جو صرف منہ سے کہہ دیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اور عمل کر کے نہیں دکھا ئیں گے۔نہیں بلکہ ان کے لئے جو ہمارے ہاتھ اپنی جان اور مال بیچ دیتے ہیں۔ایسے لوگوں سے ہمارا یہ عہد نامہ ہو چکا ہے کہ ہم تمہیں ہر ایک اس تکلیف اور مصیبت سے جو ہلاک اور ذلیل کر دینے والی ہوگی بچائیں گے۔ہاں تکلیفیں اور مصیبتیں آئیں گی ضرور تا کہ تمہاری آزمائش ہو۔لیکن ان میں بالآخر ہم تم کو اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامیاب کریں گے۔مگر اس کے لئے ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ تم اپنی جانوں اور مالوں کو ہمارے سپرد کر دو۔یہ بندہ اور خدا میں سودا ہوتا ہے۔فرمایا ہم یہ وعدہ کن لوگوں سے پورا کریں گے۔ان سے جو ہم سے خرید و فروخت کرتے ہیں۔ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ان کو دنیا میں ہر ایک ذلت اور ہلاکت سے بچائیں گے۔اور آخرت میں اعلیٰ مدارج پر پہنچا ئیں گے۔اور بندہ کہتا ہے کہ میں اپنی جان اور مال خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے دریغ نہیں کروں گا یہ بندہ اور خدا میں بیچ ہوئی اور کیا ہی عجیب و غریب بیچ ہے۔دنیا میں تو یہ بیچ ہوتی ہے کہ ایک چیز دے کر دوسری لے لی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَني ہے۔اس لئے اس کی بیع بھی بے مثل ہے کیونکہ دنیا میں تو یہ ہوتا ہے کہ ایک جوتی دیتا ہے اور روپیہ لیتا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کو دیکھئے خود بندہ کو جان اور مال دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ ہمارے ہاتھ بیچ دو۔ایک شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے۔تھا وہ شرابی مگر بات نہایت لطیف کہہ گیا ہے۔کہتا ہے۔جاں دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا ہم نہیں جانتے کہ اس نے کس کو مخاطب کر کے یہ کہا ہے۔لیکن ہم حسن ظنی سے کام لے کر خیال کرتے ہیں کہ اس نے خدا تعالیٰ کی نسبت کہا ہے۔کہتا ہے۔اگر ہم نے اس کو جان بھی دے دی تو بھی اس کے احسان کا بدلہ نہیں ادا کریں گے کیونکہ جان بھی تو اس کی دی ہوئی ہے۔واقعہ میں یہ بالکل درست اور صحیح بات ہے کہ اگر انسان خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان بھی دے دے۔تو بھی اس کے احسانات کا کچھ بھی بدلہ نہیں ادا کر سکتا۔کیونکہ جان خود خدا تعالیٰ کی عطا 女