انوارالعلوم (جلد 3) — Page 436
۳ بهم جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں تعالیٰ کے علم میں جو یہ بات ازل سے چلی آتی ہے کہ فلاں شخص اپنے دعوئی ایمان میں جھوٹا ہو گا اور فلاں شخص سچا اس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا۔اور جو علم اس کو آئندہ کی نسبت تھا اب واقعہ کے ہو جانے پر ماضی کا علم ہو جائے گا۔اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کے جھوٹے اور سچے کے جاننے کا کیا مطلب ہوا۔کیا وہ پہلے ان کو نہیں جانتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تو پہلے ہی ہر ایک بات کو جانتا ہے۔چنانچہ اس نے پہلے ہی بتا دیا ہے۔کہ الہ میں بڑا جاننے والا ہوں۔لیکن پہلے خدا تعالیٰ یہ جانتا ہے کہ ایسا ہو گا۔اور جب اسی طرح ہو جاتا ہے تو وہ یہ جان لیتا ہے کہ اس طرح ہو گیا۔اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ہم کہیں کہ کل زید لاہور جائے گا۔یہ بھی اس کے جانے کے متعلق علم ہے لیکن جب وہ چلا بھی جائے تو اس علم کی تصدیق بھی ہو جائے گی۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے یہ تو معلوم ہے کہ فلاں شخص منہ سے تو کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ اترا ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں۔اور اس کے دل میں یہ بات نہیں۔یا یہ امر واقعہ کے خلاف ہے۔لیکن اس پر ایسے واقعات اور حالات گذریں گے کہ جس سے یہ امر جو پوشیدہ تھا ظاہر بھی ہو جائے گا اور اس کا عمل اللہ تعالٰی کے علم کی تصدیق کر دے گا۔آج ہی میں نے آپ لوگوں کو بتایا تھا کہ قرآن کریم کوئی جادو اور ٹونے کی کتاب نہیں ہے بلکہ عمل کرنے کے لئے ہے اور عمل کر کے انعامات حاصل کرنے کے لئے ہے۔پس کیا ہو سکتا ہے کہ کسی کے صرف یہ کہہ دینے سے کہ میں اس پر ایمان لاتا ہوں وہ انعامات کا مستحق ہو جائے۔ہرگز نہیں۔کیونکہ اللہ تعالٰی کی سنت ہے کہ وہ ایمان کا دعوی کرنے والوں کی آزمائش کیا کرتا ہے۔اور اس طرح بچے اور جھوٹے کو ظاہر کر دیتا ہے۔چنانچہ خدا تعالی کی یہ سنت خاص طور پر اس وقت پوری ہوتی ہے جبکہ کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے۔کیونکہ اس نبی پر جو لوگ ایمان لاتے ہیں۔ان سے وہ یہ اقرار لیتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو تیرے ہاتھ پر کامل طور سے پیچ دیتے ہیں۔یہ پہلا امتحان اور پہلی آزمائش ہوتی ہے جو بچے اور جھوٹے میں امتیاز کر دیتی ہے۔اس کے بعد اس نبی کے خلفاء کے ہاتھ پر جو لوگ ان کی بیعت میں داخل ہوتے ہیں ان کو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ تم اپنے آپ کو بیچ دو اور غلام بن جاؤ۔اس اقرار کے بعد جب وہ لوگ عملی طور پر بھی پکے اتریں تب جاکر پکے مؤمن کہلا سکتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ سورۃ توبہ میں فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَ أمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ، يَقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ