انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 423

ر العلوم جلد ٣٠ ۲۳ سلام احمدی ہو جائے لیکن اس وقت مجھے یاد نہ رہا۔اس طرح اگر مسیح موعود نے کسی کا جنازہ پڑھ دیا تو وہ ہمارے لئے حجت نہیں ہے۔ہاں اگر چند معتبر آدمی حلفیہ بیان کریں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود کو کہا تھا کہ فلاں غیر احمدی فوت ہو گیا ہے۔آپ اس کا جنازہ پڑھ دیں۔اور پھر آپ نے پڑھ دیا تو ہم مان لیں گے۔کیا کوئی ایسے شاہد ہیں۔پس جب تک کوئی اس طرح نہ کرے۔یہ بات ثابت نہیں ہو سکتی کہ آپ نے کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز قرار دیا ہے۔اور ہمارے پاس غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھنے کے متعلق ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔اور وہ یہ کہ یہاں حضرت مسیح موعود کے اپنے بیٹے کی لاش لائی گئی۔اور آپ کو جنازہ پڑھنے کے لئے کہا گیا۔تو آپ نے انکار کر دیا۔پھر سرسید کے جنازہ پڑھنے کے متعلق مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کا خط موجود ہے کہ آپ نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔کیا وہ آپ کو کافر کہتے تھے ہر گز نہیں ان کا تو مذہب ہی یہ تھا کہ کوئی کافر نہیں ہے۔جب ان کے جنازہ کے متعلق خط لکھا گیا تو جیسا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مندرجہ ذیل خط میں ایک دوست کو تحریر فرماتے ہیں کہ آپ نے اس پر خفگی کا اظہار فرمایا : " متوفی (کی) خبر وفات سن کر خاموش رہے۔ہماری لاہوری جماعت نے متفقاً زور شور سے عرضداشت بھیجی کہ وہاں جنازہ پڑھا جائے اور پھر نوٹس دیا جائے کہ سب لوگ جماعت کے ہر شہر میں اسی تقلید پر جنازہ پڑھا جائے اور اس سے نوجوانوں کو یقین ہوگا کہ ہمارا فرقہ صلح کل فرقہ ہے۔اس پر حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا فرمایا اور لوگ نفاق سے کوئی کارروائی کریں تو بیچ بھی جائیں مگر ہم پر تو ضرور غضب الہی نازل ہو۔اور فرمایا ہم تو ایک محرک کے تحت میں ہیں بے اسکی تحریک کے کچھ کر نہیں سکتے۔نہ ہم کوئی کلمہ بد اسکے حق میں کہتے ہیں اور نہ کچھ اور کرتے ہیں۔تفویض الی اللہ کرتے ہیں۔فرمایا جس تبدیلی کے ہم منتظر بیٹھے ہیں اگر ساری دنیا خوش ہو جائے اور ایک خدا خوش نہ ہو تو کبھی ہم مقصود حاصل نہیں کر سکتے “ (الفضل ۲۸ مارچ ۱۹۱۵ء) پس ہم کس طرح کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز سمجھ سکتے ہیں۔ایک اور بات میں بیان کر دینا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ بعض شک کا ازالہ کرنا چاہئے لوگوں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ اگر ان کے دل میں کسی مسئلہ کے متعلق کوئی شک ہو تو اسے اپنے دل میں ہی دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ بہت خراب نکلتا ہے۔حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ شک ایک بیج کی طرح ہوتا ہے اگر اس